پاکی منڈے کا بلاگ
میرا پیار پاکستان
Saturday, August 19, 2006
لطائفدوستوں کی خدمت میں چند لطائف خاضر ھیں امید ھے پسند آئیں گے
پہلی مرتبہ عشق میں گرفتار ھونے کے بعد عبدالقدوس صاحب بھاگے بھاگے اپنے ایک دوست کے پاس گئے۔حال دل سنانے کے بعد انھوں نے کہا میں اس پری نما حسینہ سے شادی کرنا چاھتا ھوں کوئی ایسی ترکیب بتاو کہ وہ شادی پر رضا مند ھو جائےدوست نے کہا یہ تو بہت آسان بات ھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو میں تم سے محبت کرتا ھوں غزالہ۔۔۔۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟عبدالقدوس صاحب کا چہرہ لٹک گیا۔مجھے افسوس ھے میں یہ بات اس سے ھر گز نہیں کہ سکتادوست نے پوچھا کیوں؟کیوں ؟کیوںکہ اس کا نام غزالہ نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++ایک خاتون کو اپنے شوہر پر بلا وجہ شک کرنے کی عادت تھی جب بھی وہ دفتر سے یا پھر کسی جگہ سے واپس آتا تو اسکے کوٹ کی کو بڑی عرق ریزی سے چیک کرتی اگر ایک بال بھی نظر آجاتا تو پھر بیچارے شوہر کی شامت ہی آ جاتیتھی۔ایک دن شوہر دفتر سے گھر آیا تو اس نے اسکے لباس کو پوری طرح چیک کیا لیکن کچھ نظر نا آیا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے منہ بسورتے ھوئے کہا‘اب تم نے گنجی عورتوں کے ساتھ بھی دوستی کرنی شروع کردی ھے“+++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++ایک موجد اپنی ایجاد کردہ گھڑی دکھا رہا تھا اور اسکی خصوصیات بیان کرتے ھوئے کہ رہا تھا۔اس گھڑی کی سب سے بڑی خوبی یہ ھے کہ آپ اس گھڑی سے سیکنڈ کا ھزارواں حصہ بھی معلوم کر سکتے ھیں۔تب تو یہ ایک مفید ایجاد ھے۔ایک اخبار نویس نے کہااس سے کم از کم یہ تو معلوم ھو جائے گا کہ ایک عورت کو اپنی بات سے پھرنے میں کتنی دیر لگتی ھے۔۔
8:58 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
ایک کہانی
Sunday, August 13, 2006
ایک دفعہ کا زکر ھے دنیا کے کسی حصے میں ایک علاقہ تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہا کرتے تھے۔وہان پر مسلمانوں کی بادشاہت تھی جو ایک لمبے عرصہ تک جاری رھی مسلمانوں کی بادشاہت میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی امن اور سکھ چین کے ساتھ زندگی بسر کر رھے تھے کہ اچانک وقت نے پلٹا کھایا اور چند ایمان فروش غداروں نے غداری کی اور فرنگیوں کے ھاتھوں اپنے اس علاقہ کا سودا کر لیا اپنے ملک کے راز انکے ہاتھوں فروحت کر کے ڈھیر سارا مال حاصل کیا اس وقت کا بادشاہ اپنی آحری سانس تک دشمنوں سے لڑا مگر غداروں کی وجہ سے وہ شھید ھو گیا اور اس علاقہ پر فرنگیوں کا قبضہ ھو گیا جو کہ ایک لمبھے عرصہ تک اس علاقہ پر خکومت کرتے رہے اسی دوران اسی علاقے کی ایک غیر مسلمان اکثریت نے فرنگیوں کے ساتھ مراسم پیدا کرنے شروع کر دیئے پہلے تو یہ اکثریت بھی فرنگیوں کے خلاف لڑتی رہی مگر جب دیکھا کے لڑنے کے بجائے دوستی میں فائدہ ھے تو انہوں نے مکاری سے کام لیا اور دوسری قوموں سے غداری کرتے ھوئے انہوں نے فرنگیوں سے تعلقات بڑھانے شروع کر دئے اسکے لئے انہوں نے ہر وہ کام کیا کے جس کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے تھے یا پھر مسلمانوں کا مذہب انھیں اس گھٹیا پن کی اجازت نہیں دیتا تھا۔انہی لوگوں نے فرنگیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دورانیاں شروع کر دیں۔آہستہ آہستہ ان لوگوں کا سیاست میں اثرورسوخ بڑتا گیا اور انکی سازشیں بھی بڑھنے لگیں ان میں سے بھی کچھ لوگ جو اچھی سوچ کے خامل تھے نے انہیں ان ریشہ دوراینیوں سے باز رہنے کی تلقین کی مگر ایک خاص طبقہ جو مسلمانوں کے سخت خلاف تھا نے اور پاور میں تھا نے ان لوگوں کو ڈرا دھمکا کے چپ کرا دیا مسلمانوں کے خقوق سلب کئے جانے لگے انکو سرکاری نوکریوں سے نکلوایا جانے لگا مسلمانوں کی مائوں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلا جانے لگا مسجدوں میں مرے ھوئے کتے اور سور پھینکے جانے لگے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا غرضیکہ مسلمانوں کو جینا دوبھر کر دیا گیا مسلمان بیچارے مظلوم بن کر رہ گئے۔انھی دنوں مسلمانوں کے لیڈر جو کہ پہلے اسی قوم کے ساتھ مل کر فرنگیوں سے آزادی خاصل کرنا چاھتے تھے اور امن اور پیار سے اسی قوم کے ساتھ مل کر رہنا چاھتے تھے انکا ماتھا ٹھنکا انہوں نے سوچا یہ لوگ ابھی سے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ھیں ملک آزاد ھونے کے بعد کیا خال کرے گے انہوں نے اسی قوم کے لیڈروں سے بات کی تو انہوں نے مکارانہ طریقے سے مسلمانوں کے لیڈر کو قائل کرنا چاھا مگر مسلمانوں اس لیڈر کو یہ بات سمجھ میں آگئی کے یہ صرف شیشے میں اتارنے والی باتیں ھیں اور بس۔انھی دنوں مسلمانوں کے ایک شخص نے ایک الگ مسلمان وطن کا خواب دیکھا اور اسی خواب کو مسلمانوں کے اس لیڈر تک پہنچایا وہ لیڈر بھی اس خواب کو سن کر بہت خوش ھوئے اور انہیں لگا جیسے قدرت نے انہیں ایک رستہ دکھایا ھے اس لیڈر نے اس خواب کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے پورا زور لگایا اور اتنی محنت کی کہ ایک خطرناک بیماری کا شکار ھو گئے مگر اپنی کوشیش جاری رکھی آخر اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے انکی مخنت کا صلہ عنائت فرمایا اور مسلمانوں کو انکا ایک آزاد مسلمان وطن عطا فرمایا مسلمان بہت خوش تھے کہ انھیں اپنا آزاد ملک ملا ھے اب وہ آزادی سے رہ سکیں گے کوئی انکی مساجد میں مرے ھوئے کتے اور سور نہیں پھینکے گا کوئی انکی ماں بہن کی عزت کے ساتھ نہیں کھیلے گا مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نا رہ سکی مسلمان مہاجرین سب اس آزاد ریاست کی طرف ہجرت کرنے لگے یہ بات دوسری قوم کو برداشت نا ھو سکی انھوں ایک تیسری قوم کو آگے لگایا جنھوں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا لاکھوں مسلمانوں کو وطن پہنچنے سے پہلے ھی شہید کر دیا گیا انکی عورتوں کی عزتیں لوٹ لی گئی چھوٹے چھوٹے بچوں کو نیزوں اور تلواروں پر اچھالا گیا جب مہاجریں کی ٹرینیں وطن واپس پہنچتی تو ان میں لاشوں کے ڈھیر لگے ھوتے خون میں بھتی یہ ٹرینیں مسلمانوں کے سینے چیرتی ھوئی واپس آتی مگر پوری دنیا میں کسے کوئی پرواہ نہیں تھی مسلمان شہید پر شہید کئے جا رھے تھے مگر سب تماشا بنے ھوئے دیکھ رھے تھے اس پر فرنگیوں کی شہ پر اس قوم نے مسلمانوں کے ایک علاقہ پر زبردستی قبضہ کر لیا وہاں پر بھی ھزاروں لاکھوں مسلمانوں کا خون اچھالا گیا تقسیم کے وقت بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور انھیں پوری رقم ادا نھیں کی گئیں مسلمان غربت اور تنگی سے آہستہ آہستہ جینے لگے مگر کسی کے دل میں کسی سے کوئی گلہ نھیں تھا وہ آزاد تھے یہ راخت انکی ھر تکلیف مندمل کر دیتی تھی جو کچھ بھی تھا انکا اپنا تھا لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرنے لگے مگر قسمت کے برا وقت ابھی ٹلا نہیں تھا آزاد ھونے کے ایک برس کے اندر مسلمانوں کا وہ عظیم لیڈر انھیں تنہا چھوڑ کر خالق خقیقی سے جا ملا پوری قوم کو اشقوں میں ڈوبا چھوڑ کر جا چکا تھا اسکے ساتھ ایک سال کے اندر ھی اسی ملک پر اسی قوم نے حملہ کر دیا مسلمانوں کا بہت نقصان ھوا دشمن قوم کے پاس زیادہ پیسا تھا زیادہ فوجی طاقت تھی اوپر سے فرنگیوں کا ساتھ تھا مسلمان اکیلے پڑ گئے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے ھمت نہیں ہاری تھی اور انکا جم کر مقابلہ کیا اس سے قطعا نظر کے جنگ میں جیت ھوئی یا ہار مسلمانوں کا جزبہ دیکھنے کے لائق تھا۔اس جنگ کے بعد اس ملک کے مسلمانوں نے محنت کی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا اس ملک کے خالات پلٹا کھاتے رھے ملک بنے کے بعد کئی بار فرقہ ورانہ لڑائیاں لگوائی گئیں کئی بار ملک پر دشمن قوم کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی کئی بار ملک آمریت کے قبضہ میں آیاپھر ایک بار جبکہ ایک پھر غدار کے زیر سایا آگیا اس غدار بلکہ غداروں نے پھر سے تاریخ دہرائی ایک طرف آمر اور دوسری طرف قوم پرست زبان پرست غداروں نے اپنا ایمان بیچا چند فرنگی طاقتوں نے اور اسی دشمن قوم نے ان غداروں سے مل کر اس وطن کے دو ٹکڑے کر دئے ایک عظیم انسان کا خواب اور ایک عظیم لیڈر کا وطن ان ایمان فروشوں نے دشمنوں سے مل کر توڑ دیا۔اس وقت پھر سے وہی کام کیا گیا مسلمان فوجیوں کے روپ میں اسی دشمن قوم کے فوجیوں نے مسلمان ملک کے دوسرے حصے کے مسلمانوں کا بے دریغ خوں بہایا اس کام میں انکے غدار لیڈر نے اسی قوم کا پورا ساتھ دیا اور اس خون ریزی کا سارا مدعا اسی خصہ کے مسلمانوں پر ڈال دیا گیا زیادتی یہان کے غدار خکمران کی طرف سے بھی کی گئی بھائی بھائی کی طرح رہنے والوں کو دشمن بنا دیا گیا بیچارے وہی لوگ مارے گئے جو کے اس وطن کے ٹکڑے نہیں ھونے دینا چاھتے تھے مگر قدرت کو کچھ اور ھی منظور تھا مگر قدرت مجبور اور بیسہارہ لوگوں کا انتقام خود لیتی ھے اور ایسا ھی وہ سارے غدار کتے کی موت مارے گئے۔یہان پر اکتفا نہیں ھوا کئی بار ملک پر آمریت کا راج ھوا مگر ایک بار آمریت ھی اس ملک کے لوگوں کے کام آ گئی ھوا یوں کہ ایک بار پھر ایک غدار آڑے آ گیا اس نے مہاجرین کا شوشہ کھڑا کر دیا کہ یہان مہاجرین کو انکے حقوق نہیں ملتے انسے زیادتی ھوتی ھے اس نے اسی وطن کے ایک بزنس کیپیٹل پر اپنا آپ مضبوط کیا اور لوگوں کو ھراسان کیا بھتہ لیا دھشت گردی غرضیکہ ھر غلط کام کیا کہ جس سے اتنے بڑے بزنس کیپیٹل کا بزنس تباہ ھو جائے اور مہاجریں کا مسلہ کھڑا کرکے تقریبا“ اسی شہر کو ملک سے الگ کر دینے ھی والا تھا مگر اس وقت کی حکومت اسکے آڑے آ گئی اور اس کا سارا نیٹورک تباہ کرکے رکھ دیا حکومت کی اس بر وقت کاروائی پر وطن کا سب سے بڑا شہر وطن سے الگ ھوتے ھوتے رہ گیا شائد قدرت کو اس وطن کے ٹکڑے ھونا منظور نہیں تھا یا پھر لوگوں کو پچھلہ صدمہ بھولا نہیں تھا اسی لئے وطن بچ گیا اسی غدار کو پہلے حکومت استعمال کرتی رھی مگر جب وطن کو بچانے کا وقت آیا تو حکومت نے ایک دانشمندانہ اقدام کیا۔اسکے بعد کچھ عرصہ وطن میں جمہوریئت رھی اسی دوران ایک عام سا ملک کچھ اچھے لوگوں کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گیا یہ بات اسی وطن کے دشمنوں کو بہت کھٹکی انہوں نے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گئیں۔مگر اس مسلمان قوم نے سب کچھ برداشت کیا لوگ اپنے سیاست دانوں سے بہت خوش ھوئے اور اس سے زیادہ اپنے سائنسدانوں کے شکر گزار ھوئے اس ملک کے ایک سائنسدان کو لوگ خود سے زیادہ چاھنے لگے حد سے زیادہ اسکی عزت کرنے لگے اسے اپنا ھیرو ماننے لگے مگر یہ خوشی کا عرصہ بھی زیادہ دیر قائم نا رہ سکا ایک بار پھر سے ملک پر آمریت نے قبضہ کر لیا اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے اسلام کے خلاف جو کچھ کر سکتا تھا کیا اپنے قومی ھیروز کو زلیل کیا اسی سائنسدان جس نے ملک کو ایک ایٹمی طاقت بنا کر دشمنوں کو منہ بند کیا اسے بھی زلیل کروایا ایک بار پھر غدار نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ھے ایک طرف چند بکے ھوئے غدار سردار اور دوسری طرف ایک مغرب نواز آمر دونوں مل کر ملک کو پھر سے ٹکڑوں کی شکل میں بانٹ دینا چاھتے ھیں یہ تو اب اس قوم کو سمجھنا چاھئے کے مومن ایک سانپ سے دو بار نہیں کٹواتا اس قوم کو پچھلے تمام اسباق سے سبق خاصل کرنا چاھئے۔خیر اسی آمر نے ایک اور غدارانہ کام کیا کے اسی مسلمان ملک کے لوگوں کو اسی دشمن قوم کے پیچھے لگا رہا ھے جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ھیں اور اس قوم کی بھی بے حسی دیکھنے کے لائق ھے کہ یہ انہی دشمنوں کے پیچھے چلنے میں اس قدر مگن ھے کی ایک دن اپنی پہچان ھی کھو دے گی اس لئے ھم پاکستانیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاھئے کہ ھم شیعہ سنی فرقہ واریت زبان پرستی سردار پرستی قوم پرستی کو چھوڑ کر اگر وطن پرستی اور اسلام پرستی کا دامن تھام لیں تو یہی ھمارے لئے بہتر بھی ھے اور یہی ھمارے لئے نجات کا راستہ بھی ھے۔ھم پاکستانی ھیں ھماری اپنی پہچان ھے ھمیں خود کو پہچاننا چاھئے کہ ھم کون ھیں اور ھماری منزل کیا ھے۔١٤ اگست کی خوشیوں میں اپنے لبنانی بھائی بہنوں کے غم و درد کو مت بھولئے گا جو پیسے ١٤ اگست میں جھنڈیوں اور دوسری چیزوں پر ضائع کرنے ھیں انکو لبنانی بھائیوں کی مدد کرنے پر استعمال کریں۔جھنڈیان لگانے سے وطن پرستی ظاھر نہیں ھوتی اس کے لئے وطن کے لئے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ھے۔١٤ اگست کے بعد جب جھنڈیوں کو زمیں پر گرے ھوئے اور اوپر سے لوگوں کو جوتوں سمیت گزرتے دیکھتا ھوں دل میں ایک شدید چبھن اور درد کا احساس ھوتا ھے۔

اب کس کا جشن مناتے ھواس دیس کا جو تقسیم ھو
ااب کس کے گیت سناتے ھواس تن من کا جو دو نیم ھوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہانکی آنکھوں کی تقدیر ھو
ااس نام کا جو ٹکڑے ٹکڑےگلیوں میں بے توقیر ھوا
اس پرچم کا جسکی حرمتبازاروں میں نیلام ھوئی
اس مٹی کا جسکی حرمتمنسوب عدو کے نام ھوئی
اس جنگ کا جو تم ھار چکےاس رسم کا جو جاری بھی نہیں
اس زخم کا جو سینے پہ نا تھااس جان کا جو واری بھی نہیں
اس خون کا جو بد قسمت تھاراھوں میں بہایا تن میں رہا
اس پھول کا جو بے قیمت تھاآنگن میں کھلا یا بن میں رہا
اس مشرق کا جسکا تم نےنیزے کی انی مرھم سمجھا
اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا
ان معصوموں کا جنکے لہوسے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جن سےخنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفتلٹتی ھے بھرے بازاروں میں
اس عیسا کا جو قاتل ھےاور شامل ھے غم خواروں میں
ان نوحہ گروں کا جن نے ہمیںخود قتل کیا خود روتے ھیں
ایسے بھی کہیں دم ساز ھوئےایسے جلاد بھی ھوتے ھیں
ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کاجو رقص سر بازار کریں
یا ان ظالم قزاقوں کاجو بھیس بدل کر وار کریں
یا ان جھوٹے اقراروں کاجو آج تلک ایفا نہ ھوئے
یا ان بے بس لاچاروں کاجو اور بھی دکھ کا نشانہ ھوئے
اس شاھی کا جو دست بدستآئی ھےتمھارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کروکیا رکھا ھے اس قصے میں
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو ھونٹوں پہ وفا کے بول لئے
اس جشن میں میں بھی شامل ھوںنوحوں سے بھرا کشکول لئے
تمام لوگوں کو جشن آزادی مبارک۔ اللہ ہمارے وطن کو سدا آباد رکھے آمین۔
1:52 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
انکل اجمل کو سالگرہ مبارک
Sunday, August 06, 2006
اسلام علیکم۔
آج زکریا کی تحریر سے معلوم ھوا کہ آج انکل اجمل کی سالگرہ ھے۔ سوچا انہوں نے تو اپنے بلاگ پر ابھی بتایا نہیں تو چلو ایک تحریر ان کے نام کرتے ھیں۔
سالگرہ مبارک انکل!!! اللہ تعالیٰ آپ کو یہ دن بار بار دیکھنا نصیب فرمائے اور آپ یونہی ھمیں راھ راست دکھاتے اور معلومات سے نوازتے رھیں۔ آمین۔ آپ کی اس خوشی میں شامل ہونے کا دل چاھتا ھے لیکن ابھی تو یہ ممکن نھیں۔ بھرحال میں پوری اجمل فیملی اور تمام بلاگرز کو کیونکہ ہم تمام بلاگرز بھی ایک فیملی ھی ھیں کو مبارک باد پیش کرتا ھوں۔سیارہ پر اب پھلے جیسی رونق نھیں لگتی لوگ ایک دوسرے سے اکھڑے اکھڑے سے لگتے ھیں۔ میں تو پھلے بھی کم ھی لکھتا ھوں لیکن بھت سا لکھنے والے آج کل غائب ھیں۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ھماری فیملی کو۔ کچھ نا شائستہ لوگوں کی وجہ سے ھماری کمیونٹی خراب ھو گئی۔ جس پر رد عمل میں میں نے بھی نا شائستہ باتیں لکھ دیں لیکن وہ سب غصہ میں کیا تھا جس کی معافی مانگ چکا ھوں۔ خصوصا اپنے خاص بلاگرز سے۔ میں ایک اپیل پھر کرونگا کہ بلاک کیے گئے ساتھیوں کو دوباہ شامل کیا جائے۔ بیشک مجھے شامل نہ کیا جائے کیونکہ میں خود ھی یہاں سے نکل جانے کا کہ چکا ھوں سیارے کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے۔ لیکن وہ سب جیسے بھی ھیں ان کے ساتھ رونق تھی۔ بدتمیز نے مجھے جو میل کی تھی اس میں باقی لوگوں کا بھی ایڈریس شامل تھا سے ظاھر ھوا کہ اس نے کافی لوگوں کو اس سے مطلع کیا تھا۔ میں نے غصہ میں خود گالی گلوچ کر دی کیونکہ کسی دوسرے نے کوئی ایکشن نھیں لیا تھا۔ جبکہ شیخو صاحب نے وہ الفاظ جوں کہ توں بلاگ پر دے دیے ٹھیک کیا لوگوں کو پتہ چلنا چاھیے تھا لیکن وہ لکھ دیتے کہ معزرت خواتین یہ تحریر نہ پڑھیں یا ھم معافی چاھتے ھیں۔ مجھ سے بھی یہی غلطی ھوئی لیکن جیسے ھی یاد آیا میں نے فورا پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔اس کے بعد عتیق صاحب نے بھی اس پر رد عمل کے طور پر لکھا اور جو لکھا بالکل ٹھیک لکھا ھم نے جو کچھ بھی لکھا تھا اس میں انڈین مسلمانوں کے خلاف کچھ نھیں لکھا تھا وہ ھمارے بھائی ھیں ھم جیسے ھیں اس کے باوجود اگر کسی کو برا لگا تو میں معزرت چاھتا ھوں۔۔ سیارہ کو چاھیے تھا پھلے انھیں خبردار کرتے۔ میں اب زیادہ تر راکٹ پڑھتا ھوں لیکن سیارہ بھی نھیں چھوڑا اس کو بھی پڑھتا ھوں لیکن شیخو نے تمام بلاگرز کو جوں کا توں رکھا ھے جو کے سیارہ پر بھی تھے۔ زکریا اور انتظامیہ کے دوسرے لوگوں سے التماس ھے کہ اس کو کمپیٹیشن خیال نہ کیا جائے اس سے بھی اردو کی خدمت ھوگی۔ اور بدتمیز اور شیخو کو دوبارہ شامل کر لیا جائے ھمیں ایک دوسرے کی دل آزاری نھیں کرنا چاھیے۔ اسی موقع پر احمد فراز صاحب کی ایک غزل۔

ستم گری کا ھر انداز محرمانہ لگ
امیں کیا کروں مجھے میرا دشمن برا نہ لگا
ھر اک کو زعم تھا کہ کس کس کو ناخدا کھتے
بھلا ھوا کہ سفینہ کنارے جا نہ لگا
میرے سخن کا قرینہ ڈبو گیا مجھ کو
کہ جس کو خواب سنائیں اس کو فسانہ لگا
برون در نہ کوئی روشنی نہ سایا تھا
سبھی فساد مجھے اندرون خانہ لگا
میں اب تھک گیا تھا بہت پے بہ پے اڑانوں سے
جبھی تو دام بھی اس بار آشیانہ لگا
اس عھد ظلم میں میں بھی شریک ھوں
جیسےمیرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا
وہ لاکھ زود فراموش ھو فراز مگر
اسے بھی مجھ کو بھلانے میں اک زمانہ لگ
امید ھے سیارہ اور راکٹ بغیر آپس میں لڑے اردو کی ترویج میں مل کر کام کریں گے۔ اللہ ھمیں آپس میں پیار محبت سے رھنے کی توفیق عطا فرمائے اوراسلام اردو اور پاکستان کی مل کر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
9:24 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
اپیل
Thursday, August 03, 2006
ھم چند دوست آپس میں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے کہ اسرائیل نے لبنان اور فلسطین کے سینکڑوں لوگوں کو شہید کر دیا ھے ھمیں کچھ کرنا چاھئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کرنے کا ارادہ ھے ایک کہنے لگا میں لبنان جاونگا جہاد کرنے دوسرے کا خیال بھی اس سے ملتا جلتا تھا کہ کب تک ھم مسلمانوں کو یوں مارتے رہیں گے یہ مردود انکا کچھ تو کرنا چاھئے میں نے انسے کہا کہ بھائی آج کل جہاد کو دھشت گردی کا نام دیا جاتا ھے کوئی اپنے حق کے لئے بھی کیوں نا لڑ رہا ھو اگر وہ مسلمان ھے تو دھشت گرد ھے اگر کسی دوسرے مذھب سے ھے تو اپنے حق کی لڑائی ھے اپنی آزادی کی لڑائی ھے بھلا امریکا کی آزادی کو افغانستان اور عراق سے کیا خطرہ ھو سکتا تھا خیر بات دوسری جانب نکل گئی میں نے دوستوں سے کہا کے ھم فوجی نہیں جو یوں جنگ کریں اور جہاد کا نام بھی مت لینا ورنہ حکومت ایک پل میں القائدہ سے تعلق جوڑ دے گیویسے بھی عالمی سطح پر پاکستان کو ھمیشہ دھشتگرد ریاست کے نام سے جانا جاتا ھےاگر لبنان میں کوئی عام پاکستانی بمباری میں مرے تو امریکا اور یورپ اسے جہادی اور القائدہ کا رکن ثابت کرکے مدعا پاکستان پر ڈال دیں گے اس پر میرے دوستوں نے پوچھا کہ کیا ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر تماشہ دیکھتے رھیں میں نے انسے کہا کہ زیادہ جزباتی ھونے کی ضرورت نہیں دماغ سے کام لینا چاھئے اگر کچھ کرنا ھے تو پیسے اکٹھے کرتے ھیں اور جتنے پیسے اکٹھے ھونگے انسے خوراک اور دوائیاں خرید کر خکومت کے حوالے کرتے ھیں جو یہ سامان لبنان اور فلسطین کے بیسہارہ لوگوں تک پہنچا دیں گے اس پر وہ دونوں قائل ھو گئے ھم نے سب سے پہلے اپنی جیبوں کی تلاشی لی کل ملا کر پانچ ھزار روپے ھوگئے ایک دوست کا پنہ لٹک گیا کہنے لگا اس سے کیا ھوگا میں کہا خوصلہ رکھو دوسروں سے بھی مدد مانگتے ھیں اسکے بعد پہلے اپنے گھر والوں سے پھر رشتہ داروں سے اور دوستوں محلہ داروں سے اس کار خیر کے لئے مدد مانگی الحمدللہ سب نے دل کھول کر مدد کی اس سے جتنے پیسے بھی ھوئے ھم نے اپنے ناظم کو دے دئے جسنے ھماری نگرانی میں خوراک اور دوائیاں خریدیں اور اپنے پاس سے بھی پچیس ھزار روپے شامل کر کے سامان خکومتی اہلکاروں کے حولے کر دیا اس پر دل پر سے کافی بوجھ ہلکا ھوا بات کو اتنا لمبا کھینچنے کا مقصد آپ سب بلاگرز سے گزارش یا اپیل ھے کہ سب لوگ ھمارے مظلوم بھائوں کی مدد کے لئے جتنا ممکن ھو سکے مدد کریں کوشیش کریں کے زیادہ تر خوراک اور دوائیاں خریدیں کیوں کہ ھمارے لبنانی اور فلسطینی بھائی بہنوں کو ھماری مدد کی ضرورت ھے اس لئے سب لوگ ایسا ھی کریں جیسا ھم لوگوں نے کرنے کی کوشیش کی ھے یقین مانئے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ھے اللہ ھمیں مسلمانوں بلکہ انسانیت کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
12:19 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
Friday, July 21, 2006
اسرائیل نے فلسطین اور لبنان پر حملہ کیا کر دیا لوگوں نے تو آسمان سر پے اٹھا رکھا ھے کیا ھو گیا ھے کہ اگر کچھ لوگ روزانہ مارے جا رہے ھیں اس میں اتنا غصہ کرنے والی کونسی بات ھےمسلمان ھی مر رہے ھیں کوئی انسان تو نہیں مر رہے بھئی جو طاقت میں ھے وہ تو اپنا آپ دکھائے گا ھی ھمیں اس سے کیا لگے پھلے کیا کم لوگ عراق اور افغانستان میں مر رہے ھیں کیا ھوا انکا کچھ بھی نہیں بیچاروں کی اوقات ھی کیا تھی انھوں نے تو جنم ھی امریکیوں سمیت اتحادی افواج کے ھاتھوں مرنے کے لئے لیا تھا ویسے ان لوگوں کے مرنے سے ھم لوگوں کا تو کوئی نقصان نہیں ھوا تو پھر شور مچانے سے کیا فائدہ۔ھمیں چپ رہنا ھوگا اپنے لئے اپنے ملک کے لئے اگر چھوڑنا پڑے اپنا مذہب تب بھی چپ رہنا ھے اپنے لئے اپنے ملک کے لئے اور انتظار کرنا ھے اس پل کا جب ان لوگوں کی جگہ ھم پر بمباری ھوگی ھم مریں گے ھمارے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچے مریں گے مگر ھمیں کیا ھمیں تو چپ رہنا ھے اور انتظار کرنا اس وقت کا جب ھماری روشن خیالی اور اعتدال پسندی ھمیں شائد ان سے بچائے گی جو نعوذباللہ خدا بن بیٹھے ھیں ھمیں کیا کوئی جیتا ھے جئے کوئی مرتا ھے مرے ھم کو تو چپ رہنا ھے اور دیکھنا ھے اس ملک کے بدلتے ھوئے خالات کو کے کیسے ایک اسلامی وطن فرعونیت کی بھینٹ چڑھ رہا ھے مگر ھمیں چپ رہنا ھے اوع مگن رہنا ھے اپنے آپ میں مگر میں ڈرتا ھوں اس چپ سے جو ایک دن ھمیں چپ چاپ اسلام سے نکال کر کفر میں ڈال دے گی یہی چپ اک دن ھمیں لے ڈوبے گی کیوں کہ ھمیں چپ رہنا ھے کہ ھم کوئی مسلمان نہیں ھمیں چپ رھنا ھے کہ شائد ھم بھی انسان نھیں ۔(روشن خیالوں اور اعتدال پسندوں سے معذرت)
8:36 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
Parental Guidness is advised for the younger Bloggers
Sunday, July 09, 2006
چند دن پہلے میں کمپیوٹر پر بیٹھا بلاگ پڑھنے میں مصروف تھا کے میرا ١٢ سال کا کزن کمرے میں داحل ھوا اور کہنے لگا کے بھائی جان آپ رات کو ٹی وی دیکھتے ھیں مینے کہا ھاں سٹار مویز اورایچ بی او پر رات کو فلم دیکھتا ھوں تو وہ بڑے ھی پراسرار انداز میں میرے نزدیک آیا اور کہا بھائی کان پاس لائیں دیواروں کے بھی کان ھوتے ھیں میں نے مسکراتے ھوئے کان آگے بڑھایا تو کان میں آہستہ سے بولا بھائی رات کو ایم نیٹ پر بہت مزے کی فلمیں لگتی ھیں مینے اسے گھورا اورپوچھا یہ تم رات کو ٹی وی کیوں دیکھتے ھو۔اس پر وہ جناب ھلکے سے مسکرائے اور بولے بھائی جب سب سوتے ھیں تو میں ٹی وی دیکھتا ہوں آپ بھی ضرور دیکھنا اس پر مینے اس سے کہا کے ٹھیک ھے میں دیکھوں گااسی رات جب میں کمپیوٹر بند کر کے کمرے میں گیا تو اچانک مجھے اپنے کزن کی بات یاد آ گئی مینے ٹی وی آن کیا اور ایم نیٹ چینل لگایا ابھی تھوڑی ھی دیر گزری تھی کی ٹی وی پر لکھا ھوا آیا پیرینٹل گائڈنیس اڈوائسڈ فور ینگر پیپلز میری آنکھیں کھل گئی وہاں ایک نہائیت ھی واھیات فلم شروع ہو گئی پہلے تو مجھے بہت ھنسی آئی مگر بعد میں میں اٹھا اور جا کر اپنے چچا کو جگایا اور انہیں بلا کر بتایا کے آپ کے صاحبزادے آپ کے سونے کے بعد کیا کیا شغل فرماتے ھیںانہیں اتنا بتانے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا صبح مجھے کسی دھماکے کی امید تھی مگر صرف ڈانٹ کھا کر ھی بچت ھو گئی اس پر کزن صاحب مجھ سے ناراض ھو گئے اور آدھا گھنٹہ بعد ایک چاکلیٹ کے عوض ھماری دوستی پھر سے بحال ھو گئی اس واقعے کے ٹھیک دوسری رات میں واش روم جانے کے لئے اٹھا تو سامنے والے کمرے میں لائٹ جلتی نظر آئی میں سمجھ گیا کے کزن صاحب پھر سے انجوائے کر رھے ھیں میں نے سوچا آج رنگے ھاتھوں پکڑتے ھیں یہ سوچ کر مابدولت کمرے میں تشریف لے گئے اور نہائیت شرمندگی کے باعث فورا“ واپس لوٹ آئے کیوں کے اس بار کزن صاحب نہیں بلکے انکے والد صاحب شغل فرما رھے تھے اس پر میری منہ سے ایک ھی بات نکلی کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ
8:27 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
بے بس اور مظلوم
Wednesday, July 05, 2006
اسلام علیکم چند دن پہلے اپنے ایک دوست کے گھر جانا ہوا اس دوست کے ساتھ ھمارے خاندانی تعلقات ھیں اس لئے کافی آنا جانا رہتا ھے ان سب لوگوں سے ھی کافی اچھے تعلقات ھیں۔اب گیا تو کافی گپ شپ رھی باتوں ھی باتوں میرے دوست کے بھائی نے ایک پریشان کر دینے والی بات بتائی۔دوست کا بھائی ایک پرائیویٹ سکول کا ٹیچر ھے اور اس نے ایم اے انگلش کیا ہوا ھے کافی لائق آدمی ھے۔اس کے مطابق اسی سکول میں ایک عیسائی لڑکی بھی پڑھاتی ھے۔اس لڑکی کے مطلق دوست کے بھائی کا کہنا ھے کے وہ بچوں کو بائبل پڑھانے کی کوشیش کرتی رھتی ھے سکول میں وہ بائبل ساتھ لے کر آتی ھے۔گزشتہ رمضان المبارک میں وھی عیسائی لڑکی سکول میں ٹیپ ریکورڈر لے آئی اور اس پر ریسیس میں اونچی آواز میں گانے لگا دئے اس پر بچوں نے اس سے کہا کے ھمارے روزے خراب ھو رھے ھیں پلیز اسے بند کر دیں تو آگے سے اس نے بچوں سے غصے میں کہا میں لعنت بھیجتی ھوں تمھارے روزوں پر(نعوذباللہ)اس پر بچوں نے پرنسپل کو شکائیت لگا دی۔پرنسپل صاحب نے اسے بلا کر اس بارے میں پوچھا تو آگے سے بگڑ گئی کہنے لگی میں تو ایسا کہوں گی ہمت ھے تو مجھے سکول سے نکال کر دیکھا دو اس پر پرنسپل صاحب نے مصحلتا“ اسے سکول سے نہیں نکالا کیوں کہ وہ نہیں چاھتے تھے کے کسی وجہ سے اقلیئت کے ساتھ کوئی زیادتی ہو اسی وجہ سے وہ اتنی بڑی بات برداشت کر گئے۔اس پر وہ اور منہ زور ھو گئی اس نے سکول کی دوسری ٹیچر جو کے مسلمان ھے اور اس نے ایم اے اسلامیات کیا ھوا ھے کو اپنے ساتھ ملا لیا ھے وہ مسلم لڑکی ھو کے بھی بائبل کی باتیں کرنے لگی ھے ھر وقت وہ دونوں ساتھ میں رھتی ھیں ساتھ میں بچوں کو بھی بائبل پڑھانے کی کوشیش کرتی ہیں۔ایک بچے کو بائبل نا پڑنے پر اس عیسائی لڑکی نے بچے کو بری طرح مارا اس بچے کو دل کا مسئلا تھا اس کی وجہ سے بچے کو اسپتال لے کے جانا پڑا۔وہ لڑکی بچوں کو ھم جنس پرستی اور اس طرح کی کئی اور غلط باتیں سکھاتی ھے کئی ماں باپ نے اپنے بچے اٹھوا لئے ھیں ایک دن پرنسپل صاحب کا میٹر گھوم گیا انہوں نے اسے آفس میں بلا کر خوب ڈانٹا اور اسے سکول سے نکال دینے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔اس وقت وہ چپ چاپ سکول سے چلی گئی مگر دو تین گھنٹے بعد وہی لڑکی یونیسیف والوں کو ساتھ لے کر آ گئی انہوں نے آتے ھی پرنسپل صاحب کو بہت بے عزت کیا انہوں نے دھمکی دی کے اگر اسے نوکری سے نکالا گیا تو آپ کا لائسینس کینسل کروا دیں گے انہوں نے دھمکی کے ذریعے اس لڑکی کی تنحواہ بھی بڑھوادی اب وہ بی اے ہونے کے باواجود دوسرےایم اے پاس ٹیچرز سے زیادہ تنحواہ لیتی ھے اور پہلے جیسی تبلیغ جاری رکھی ھوئی ھے اکثر دوسری ٹیچرز کے ساتھ جھگڑا کرتی ھے اور کہتی ھے میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ اکثر اخبارات میں اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان کالم لکھتی رھتی ھے اکثر قائداعظم کو بھی گالیاں دیتی ھے وہ جان بوجھ کر ایسے کام کرتی ھے تا کہ کوئی اسے غصے میں کچھ کہ دے تو وہ اسے ایشو بنا لے۔کہتی ھے دنیا میں سب سے زیادہ اقلیئت کے ساتھ پاکستان میں زیادتی ھوتی ھے۔اتنا سب کچھ سن نے کے بعد بھی مسلمان ہوتے ھوئے بھی اسے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیوں کیا اس کا کوئی جواب دے سکتا ھے۔یہ تحریر میں نے کسی اقلیئت کو نشانہ بنانے کے لئے یا پھر دکھ پہنچانے کے لئے نہیں لکھی ھے میرا مقصد ایک بے بس اور مظلوم قوم کی ایک حقیقت کو سامنے لانا ھے کے کیسے ھم لوگ خود کو آزاد کہلاتے ھیں کیوں ھم پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ھیں آخر پاکستان میں حکومت کس کی ھے اور کیا ھم واقعئی مسلمان ھیں۔یا پھر یہاں بس اسلام کا نام ھی رہ گیا ھےکافی عرصہ غائب رھنے پر معزرت حواہ ہوں۔
8:34 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا