ایک دفعہ کا زکر ھے دنیا کے کسی حصے میں ایک علاقہ تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہا کرتے تھے۔وہان پر مسلمانوں کی بادشاہت تھی جو ایک لمبے عرصہ تک جاری رھی مسلمانوں کی بادشاہت میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی امن اور سکھ چین کے ساتھ زندگی بسر کر رھے تھے کہ اچانک وقت نے پلٹا کھایا اور چند ایمان فروش غداروں نے غداری کی اور فرنگیوں کے ھاتھوں اپنے اس علاقہ کا سودا کر لیا اپنے ملک کے راز انکے ہاتھوں فروحت کر کے ڈھیر سارا مال حاصل کیا اس وقت کا بادشاہ اپنی آحری سانس تک دشمنوں سے لڑا مگر غداروں کی وجہ سے وہ شھید ھو گیا اور اس علاقہ پر فرنگیوں کا قبضہ ھو گیا جو کہ ایک لمبھے عرصہ تک اس علاقہ پر خکومت کرتے رہے اسی دوران اسی علاقے کی ایک غیر مسلمان اکثریت نے فرنگیوں کے ساتھ مراسم پیدا کرنے شروع کر دیئے پہلے تو یہ اکثریت بھی فرنگیوں کے خلاف لڑتی رہی مگر جب دیکھا کے لڑنے کے بجائے دوستی میں فائدہ ھے تو انہوں نے مکاری سے کام لیا اور دوسری قوموں سے غداری کرتے ھوئے انہوں نے فرنگیوں سے تعلقات بڑھانے شروع کر دئے اسکے لئے انہوں نے ہر وہ کام کیا کے جس کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے تھے یا پھر مسلمانوں کا مذہب انھیں اس گھٹیا پن کی اجازت نہیں دیتا تھا۔انہی لوگوں نے فرنگیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دورانیاں شروع کر دیں۔آہستہ آہستہ ان لوگوں کا سیاست میں اثرورسوخ بڑتا گیا اور انکی سازشیں بھی بڑھنے لگیں ان میں سے بھی کچھ لوگ جو اچھی سوچ کے خامل تھے نے انہیں ان ریشہ دوراینیوں سے باز رہنے کی تلقین کی مگر ایک خاص طبقہ جو مسلمانوں کے سخت خلاف تھا نے اور پاور میں تھا نے ان لوگوں کو ڈرا دھمکا کے چپ کرا دیا مسلمانوں کے خقوق سلب کئے جانے لگے انکو سرکاری نوکریوں سے نکلوایا جانے لگا مسلمانوں کی مائوں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلا جانے لگا مسجدوں میں مرے ھوئے کتے اور سور پھینکے جانے لگے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا غرضیکہ مسلمانوں کو جینا دوبھر کر دیا گیا مسلمان بیچارے مظلوم بن کر رہ گئے۔انھی دنوں مسلمانوں کے لیڈر جو کہ پہلے اسی قوم کے ساتھ مل کر فرنگیوں سے آزادی خاصل کرنا چاھتے تھے اور امن اور پیار سے اسی قوم کے ساتھ مل کر رہنا چاھتے تھے انکا ماتھا ٹھنکا انہوں نے سوچا یہ لوگ ابھی سے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ھیں ملک آزاد ھونے کے بعد کیا خال کرے گے انہوں نے اسی قوم کے لیڈروں سے بات کی تو انہوں نے مکارانہ طریقے سے مسلمانوں کے لیڈر کو قائل کرنا چاھا مگر مسلمانوں اس لیڈر کو یہ بات سمجھ میں آگئی کے یہ صرف شیشے میں اتارنے والی باتیں ھیں اور بس۔انھی دنوں مسلمانوں کے ایک شخص نے ایک الگ مسلمان وطن کا خواب دیکھا اور اسی خواب کو مسلمانوں کے اس لیڈر تک پہنچایا وہ لیڈر بھی اس خواب کو سن کر بہت خوش ھوئے اور انہیں لگا جیسے قدرت نے انہیں ایک رستہ دکھایا ھے اس لیڈر نے اس خواب کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے پورا زور لگایا اور اتنی محنت کی کہ ایک خطرناک بیماری کا شکار ھو گئے مگر اپنی کوشیش جاری رکھی آخر اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے انکی مخنت کا صلہ عنائت فرمایا اور مسلمانوں کو انکا ایک آزاد مسلمان وطن عطا فرمایا مسلمان بہت خوش تھے کہ انھیں اپنا آزاد ملک ملا ھے اب وہ آزادی سے رہ سکیں گے کوئی انکی مساجد میں مرے ھوئے کتے اور سور نہیں پھینکے گا کوئی انکی ماں بہن کی عزت کے ساتھ نہیں کھیلے گا مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نا رہ سکی مسلمان مہاجرین سب اس آزاد ریاست کی طرف ہجرت کرنے لگے یہ بات دوسری قوم کو برداشت نا ھو سکی انھوں ایک تیسری قوم کو آگے لگایا جنھوں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا لاکھوں مسلمانوں کو وطن پہنچنے سے پہلے ھی شہید کر دیا گیا انکی عورتوں کی عزتیں لوٹ لی گئی چھوٹے چھوٹے بچوں کو نیزوں اور تلواروں پر اچھالا گیا جب مہاجریں کی ٹرینیں وطن واپس پہنچتی تو ان میں لاشوں کے ڈھیر لگے ھوتے خون میں بھتی یہ ٹرینیں مسلمانوں کے سینے چیرتی ھوئی واپس آتی مگر پوری دنیا میں کسے کوئی پرواہ نہیں تھی مسلمان شہید پر شہید کئے جا رھے تھے مگر سب تماشا بنے ھوئے دیکھ رھے تھے اس پر فرنگیوں کی شہ پر اس قوم نے مسلمانوں کے ایک علاقہ پر زبردستی قبضہ کر لیا وہاں پر بھی ھزاروں لاکھوں مسلمانوں کا خون اچھالا گیا تقسیم کے وقت بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور انھیں پوری رقم ادا نھیں کی گئیں مسلمان غربت اور تنگی سے آہستہ آہستہ جینے لگے مگر کسی کے دل میں کسی سے کوئی گلہ نھیں تھا وہ آزاد تھے یہ راخت انکی ھر تکلیف مندمل کر دیتی تھی جو کچھ بھی تھا انکا اپنا تھا لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرنے لگے مگر قسمت کے برا وقت ابھی ٹلا نہیں تھا آزاد ھونے کے ایک برس کے اندر مسلمانوں کا وہ عظیم لیڈر انھیں تنہا چھوڑ کر خالق خقیقی سے جا ملا پوری قوم کو اشقوں میں ڈوبا چھوڑ کر جا چکا تھا اسکے ساتھ ایک سال کے اندر ھی اسی ملک پر اسی قوم نے حملہ کر دیا مسلمانوں کا بہت نقصان ھوا دشمن قوم کے پاس زیادہ پیسا تھا زیادہ فوجی طاقت تھی اوپر سے فرنگیوں کا ساتھ تھا مسلمان اکیلے پڑ گئے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے ھمت نہیں ہاری تھی اور انکا جم کر مقابلہ کیا اس سے قطعا نظر کے جنگ میں جیت ھوئی یا ہار مسلمانوں کا جزبہ دیکھنے کے لائق تھا۔اس جنگ کے بعد اس ملک کے مسلمانوں نے محنت کی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا اس ملک کے خالات پلٹا کھاتے رھے ملک بنے کے بعد کئی بار فرقہ ورانہ لڑائیاں لگوائی گئیں کئی بار ملک پر دشمن قوم کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی کئی بار ملک آمریت کے قبضہ میں آیاپھر ایک بار جبکہ ایک پھر غدار کے زیر سایا آگیا اس غدار بلکہ غداروں نے پھر سے تاریخ دہرائی ایک طرف آمر اور دوسری طرف قوم پرست زبان پرست غداروں نے اپنا ایمان بیچا چند فرنگی طاقتوں نے اور اسی دشمن قوم نے ان غداروں سے مل کر اس وطن کے دو ٹکڑے کر دئے ایک عظیم انسان کا خواب اور ایک عظیم لیڈر کا وطن ان ایمان فروشوں نے دشمنوں سے مل کر توڑ دیا۔اس وقت پھر سے وہی کام کیا گیا مسلمان فوجیوں کے روپ میں اسی دشمن قوم کے فوجیوں نے مسلمان ملک کے دوسرے حصے کے مسلمانوں کا بے دریغ خوں بہایا اس کام میں انکے غدار لیڈر نے اسی قوم کا پورا ساتھ دیا اور اس خون ریزی کا سارا مدعا اسی خصہ کے مسلمانوں پر ڈال دیا گیا زیادتی یہان کے غدار خکمران کی طرف سے بھی کی گئی بھائی بھائی کی طرح رہنے والوں کو دشمن بنا دیا گیا بیچارے وہی لوگ مارے گئے جو کے اس وطن کے ٹکڑے نہیں ھونے دینا چاھتے تھے مگر قدرت کو کچھ اور ھی منظور تھا مگر قدرت مجبور اور بیسہارہ لوگوں کا انتقام خود لیتی ھے اور ایسا ھی وہ سارے غدار کتے کی موت مارے گئے۔یہان پر اکتفا نہیں ھوا کئی بار ملک پر آمریت کا راج ھوا مگر ایک بار آمریت ھی اس ملک کے لوگوں کے کام آ گئی ھوا یوں کہ ایک بار پھر ایک غدار آڑے آ گیا اس نے مہاجرین کا شوشہ کھڑا کر دیا کہ یہان مہاجرین کو انکے حقوق نہیں ملتے انسے زیادتی ھوتی ھے اس نے اسی وطن کے ایک بزنس کیپیٹل پر اپنا آپ مضبوط کیا اور لوگوں کو ھراسان کیا بھتہ لیا دھشت گردی غرضیکہ ھر غلط کام کیا کہ جس سے اتنے بڑے بزنس کیپیٹل کا بزنس تباہ ھو جائے اور مہاجریں کا مسلہ کھڑا کرکے تقریبا“ اسی شہر کو ملک سے الگ کر دینے ھی والا تھا مگر اس وقت کی حکومت اسکے آڑے آ گئی اور اس کا سارا نیٹورک تباہ کرکے رکھ دیا حکومت کی اس بر وقت کاروائی پر وطن کا سب سے بڑا شہر وطن سے الگ ھوتے ھوتے رہ گیا شائد قدرت کو اس وطن کے ٹکڑے ھونا منظور نہیں تھا یا پھر لوگوں کو پچھلہ صدمہ بھولا نہیں تھا اسی لئے وطن بچ گیا اسی غدار کو پہلے حکومت استعمال کرتی رھی مگر جب وطن کو بچانے کا وقت آیا تو حکومت نے ایک دانشمندانہ اقدام کیا۔اسکے بعد کچھ عرصہ وطن میں جمہوریئت رھی اسی دوران ایک عام سا ملک کچھ اچھے لوگوں کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گیا یہ بات اسی وطن کے دشمنوں کو بہت کھٹکی انہوں نے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گئیں۔مگر اس مسلمان قوم نے سب کچھ برداشت کیا لوگ اپنے سیاست دانوں سے بہت خوش ھوئے اور اس سے زیادہ اپنے سائنسدانوں کے شکر گزار ھوئے اس ملک کے ایک سائنسدان کو لوگ خود سے زیادہ چاھنے لگے حد سے زیادہ اسکی عزت کرنے لگے اسے اپنا ھیرو ماننے لگے مگر یہ خوشی کا عرصہ بھی زیادہ دیر قائم نا رہ سکا ایک بار پھر سے ملک پر آمریت نے قبضہ کر لیا اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے اسلام کے خلاف جو کچھ کر سکتا تھا کیا اپنے قومی ھیروز کو زلیل کیا اسی سائنسدان جس نے ملک کو ایک ایٹمی طاقت بنا کر دشمنوں کو منہ بند کیا اسے بھی زلیل کروایا ایک بار پھر غدار نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ھے ایک طرف چند بکے ھوئے غدار سردار اور دوسری طرف ایک مغرب نواز آمر دونوں مل کر ملک کو پھر سے ٹکڑوں کی شکل میں بانٹ دینا چاھتے ھیں یہ تو اب اس قوم کو سمجھنا چاھئے کے مومن ایک سانپ سے دو بار نہیں کٹواتا اس قوم کو پچھلے تمام اسباق سے سبق خاصل کرنا چاھئے۔خیر اسی آمر نے ایک اور غدارانہ کام کیا کے اسی مسلمان ملک کے لوگوں کو اسی دشمن قوم کے پیچھے لگا رہا ھے جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ھیں اور اس قوم کی بھی بے حسی دیکھنے کے لائق ھے کہ یہ انہی دشمنوں کے پیچھے چلنے میں اس قدر مگن ھے کی ایک دن اپنی پہچان ھی کھو دے گی اس لئے ھم پاکستانیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاھئے کہ ھم شیعہ سنی فرقہ واریت زبان پرستی سردار پرستی قوم پرستی کو چھوڑ کر اگر وطن پرستی اور اسلام پرستی کا دامن تھام لیں تو یہی ھمارے لئے بہتر بھی ھے اور یہی ھمارے لئے نجات کا راستہ بھی ھے۔ھم پاکستانی ھیں ھماری اپنی پہچان ھے ھمیں خود کو پہچاننا چاھئے کہ ھم کون ھیں اور ھماری منزل کیا ھے۔١٤ اگست کی خوشیوں میں اپنے لبنانی بھائی بہنوں کے غم و درد کو مت بھولئے گا جو پیسے ١٤ اگست میں جھنڈیوں اور دوسری چیزوں پر ضائع کرنے ھیں انکو لبنانی بھائیوں کی مدد کرنے پر استعمال کریں۔جھنڈیان لگانے سے وطن پرستی ظاھر نہیں ھوتی اس کے لئے وطن کے لئے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ھے۔١٤ اگست کے بعد جب جھنڈیوں کو زمیں پر گرے ھوئے اور اوپر سے لوگوں کو جوتوں سمیت گزرتے دیکھتا ھوں دل میں ایک شدید چبھن اور درد کا احساس ھوتا ھے۔
اب کس کا جشن مناتے ھواس دیس کا جو تقسیم ھو
ااب کس کے گیت سناتے ھواس تن من کا جو دو نیم ھوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہانکی آنکھوں کی تقدیر ھو
ااس نام کا جو ٹکڑے ٹکڑےگلیوں میں بے توقیر ھوا
اس پرچم کا جسکی حرمتبازاروں میں نیلام ھوئی
اس مٹی کا جسکی حرمتمنسوب عدو کے نام ھوئی
اس جنگ کا جو تم ھار چکےاس رسم کا جو جاری بھی نہیں
اس زخم کا جو سینے پہ نا تھااس جان کا جو واری بھی نہیں
اس خون کا جو بد قسمت تھاراھوں میں بہایا تن میں رہا
اس پھول کا جو بے قیمت تھاآنگن میں کھلا یا بن میں رہا
اس مشرق کا جسکا تم نےنیزے کی انی مرھم سمجھا
اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا
ان معصوموں کا جنکے لہوسے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جن سےخنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفتلٹتی ھے بھرے بازاروں میں
اس عیسا کا جو قاتل ھےاور شامل ھے غم خواروں میں
ان نوحہ گروں کا جن نے ہمیںخود قتل کیا خود روتے ھیں
ایسے بھی کہیں دم ساز ھوئےایسے جلاد بھی ھوتے ھیں
ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کاجو رقص سر بازار کریں
یا ان ظالم قزاقوں کاجو بھیس بدل کر وار کریں
یا ان جھوٹے اقراروں کاجو آج تلک ایفا نہ ھوئے
یا ان بے بس لاچاروں کاجو اور بھی دکھ کا نشانہ ھوئے
اس شاھی کا جو دست بدستآئی ھےتمھارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کروکیا رکھا ھے اس قصے میں
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو ھونٹوں پہ وفا کے بول لئے
اس جشن میں میں بھی شامل ھوںنوحوں سے بھرا کشکول لئے
تمام لوگوں کو جشن آزادی مبارک۔ اللہ ہمارے وطن کو سدا آباد رکھے آمین۔