پاکی منڈے کا بلاگ
میرا پیار پاکستان
شہید عامر چیمہ کو خراج تحسین۔
Saturday, May 20, 2006
اسلام علیکم پچھلے دنوں جرمنی میں ھمارے ایک پاکستانی بھائی کوجیل میں تشدد کا نشانہ بنا کا شھید کر دیا گیا ھمارے اس بھائی کا نام عامر چیمہ ھے میں ھے اس لئے لکھ رھا ھوں کیوں کہ شھید کبھی مرتے نھیں۔پاکستان کا یہ سیدھا سا لڑکا جرمنی میں پی ایچ ڈی۔ کی تعلیم حاصل کر رھا تھا۔یورپ میں جب نبی کریم (صلعم) کی شان پاک میں گستاخی کی گئی تب مسلمانوں نے شدید غم و غصہ کا اظھار کیا۔انھی دین پرست لوگوں میں سے ایک عامر چیمہ تھے جنھوں نےنبی کریم (صلعم)کی خاطر جرمنی کی اخبار کے اڈیٹر کو دھمکی دے ڈالی۔صرف دھمکی دینے کے الزام میں انھیں گرفتار کر لیا گیا پھر انھیں تشدد کر کے شھید کر دیا گیا۔جس سے پوری پاکستانی قوم نے شدید رنج اور غصے کا اظھار کیا مگر ھماری حکومت کے کان پر جوں تک نھیںرینگی۔ابھی تک صرف تفتیش ھی کی جا رھی ھے۔ھوگا کیا یہ ھم سب جانتے ھیں۔لیکن ایک بات لازمی یاد رکھنے کی ھے کے شھید کا خون کبھی رائگاں نھیں جاتا عامر چیمہ کا خون بھی رنگ لائے گا (انشااللہ)ھماری حکومت یقیناً یھی کھے گی کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ھے بھلا ایک اعلیٰ درجے کے پڑھے لکھے نو جوان کو خود کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔مگر بات تو سمجھنے کی ھے۔شاید اسکا تعلق القائدہ سے جوڑ دیا جائگا۔یورپ اور امریکا میں ایک مکھی مچھر بھی مر جائے تو اسے بھی القائدہ پر ڈال دیا جاتا ھے سمجھ میں نھیں آتا جب امریکا میں قطرینہ طوفان آیا تو اسکی ذمہ داری القائدہ نے کیوں قبول نھیں کی اس میں بھی کسی پاکستانی کا ھاتھ کیوں شامل نھیں ھوا۔اور مزے کی بات تو یہ ھے کہ ھر دھشت گردی میں کوئی نا کوئی پاکستانی ضرور شامل ھوتا ھے۔ایسا کیوں ھوتا ھے ھم سب اچھی طرح جانتے ھیں۔امریکہ اور یورپ تو پورے پاکستانی پندرہ کروڑ لوگوںکو دھشت گرد قوم مانتے ھیں۔مگر ھماری حکومت انکی دوست ھے اکیلے مشرف صاحب ھی ان دھشت گردوں کو قابو کیئے ھوئے ھیں۔ابھی جرمنی اور پاکستان کے درمیان تجارت اور دفاع کا معاھدہ ھو رھا تھا یہ بیچ میں عامر چیمہ کیوں آ گیا یہ اسلام کیوں بار بار پاکستان کی ترقی کےدرمیان آ جاتا ھے۔کتنی کوشش کی ھماری حکومت نے اسلام کو ختم کرنے کی مگر ناجانے کیوں کامیاب نھیں ھو سکی۔جب جب اسلام کو دبایا جاتا ھے یہ اور زیادہ بڑھتا ھی جاتا ھے۔ھے نا مزے کی بات۔
8:58 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
9 Comments:
سچ کہا ہے کسی نے کہ ‘اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘

Blogger Khawar said...
آپ نے لكها ەے كه ايكـ اعلى تعليم يافته ادمى كو بهلا خود كشى كرنے كى كيا ضرورت تهى ـ
يه بهى تو هوسكتا هے كه انسٹنٹ ميں هيرو بننے كے شوق ميں چهرى اٹهاكر اخبار كے دفتر پر حمله كرديا هو ـ
مكر كرفتارى كے بعد كسى نے وات(خبر) هى نه لى تو مايوسى كى انتەا نے خود كشى كروادى هو؟؟
آپ كو كسى نے يورپ كى جيلوں كا بتايا نەيں هو گا اور اگز بتايا بهى هو گا تو يه كه يورپ كى جيليں ائركنڈيشن هوتى هيں ـ
يورپ كى سردى ميں ائر كنڈيشن جيلوں كا شوشا بهى كسى ديسى كى هى ذەنى اختراح هو گى ـ
ڈر لگتا هے جى پاكستان كے جذباتى لوگوں سے ـ

Anonymous Anonymous said...
خاور کنگ صاحب

آپ کی یہ تحریر نہائیت احمکانہ سوچ کی حامل ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں بزدلے بھی۔

مان لیا کے عامر نے ایسا ہیرو بننے کے چکر میں کیا، لیکن جزبات تو تھے، کیا پڑہا لکھا ہونے پر اور ایک عقلمند طالب علم ہونے کر با وجود وہ نتائج کو نہ جانتا تھا؟ کے وہ جو کرنے جا رہا ہے اس کے کس قدر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں؟

آپ میں تو یہ اتنی ہمت بھی نہ تھی وگرنہ آپ بھی تو یورپ میں رہتے ہیں فرانس نے بھی تو یہی کچھ شائع کیا تھا۔ لیکن آپ نے اچھا کیا جو ہیرو نہیں بنے وارنہ جان تو جا سکتی تھی۔

اللہ ہمیں سوچنے اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔

خاور جاوید صاحب آپ نے اچھا لکھا ہے، مزید اچھا لکھیے اور تمام حوصلہ افزائی اور تنقیدوں کو برابر سمجھیے۔

Blogger پاکی منڈا said...
اسلام علیکم
ویسے آپ کا خیال درست ھے ھو سکتا ھے ایسا ھی ھوا ھو۔پر ھم لوگ خود سکون سے گھر میں
بیٹھ کر کیسے کہ سکتے ھیں کے عامر چیمہ نے ھیرو بننے کے لئے یہ سب کیا۔ھم لوگوں میں ایک بھت اچھی عادت
ھے کے ھم لوگ خود تو کچھ کرتے نھیں پر اگر کوئی دوسرا کچھ کرے تو ھم لوگ اس میں بھی کیڑے نکالتے ھیں۔
عامر چیمہ زندگی سے مایوس نھیں تھا اسکے گھر والوں نے اسے جیل سے نکالنے کی پوری کوشیش کی تھی مگر
بیچارے عام لوگ تھے اور کیا کرتے جب ھماری روشن خیال اور معتدل حکومت نے ان کا ساتھ نھیں دیا۔عامر چیمہ اگر کبھی زندگی سے مایوس نھیں ھو سکتا تھا کیوں کہ اس کا اللہ اور اس کے رسول (صلعم) پر بھروسہ تھا جبھی وہ
اتنا بڑا کام کر پایا۔جی میرے سامنے کسی نے یورپ کی جیلوں کے بارے میں کسی نے کوئی شوشا نھیں چھو ڑا۔
شاید یورپ میں کچھ لوگ اپنے مذھب اور اپنے وطن کی حقیقت کو بھول جاتے ھیں۔یا پھر انھیں ان سے محبت
نھیں رھتی اسی لیئے انھیں ھر حقیقت ایک شوشا لگتی ھے۔ویسے آپ جتنا بھی بھاگیں رھیں گے پھر بھی آپ ایک
مسلم پاکستانی ھی جتنا بھی خود کو آزاد خیال کر لیں مغربی لوگ آپ کو پھر بھی جب چا ھیں گے آپ پر القایدہ
ڈال کر آپ کی ساری روشن خیالی کو مٹی میں ملا دیں گے۔اس لیئے دوست اپنی حقیقت سے ڈرنا نھیں بلکہ اس
کا سامنا کرنا چاھیے کیوں کہ ھم واقعی دیسی لوگ ھیں مغرب جیسے مکار نھیں۔امید ھے آپ میری باتوں کا
برا نھیں منائیں گے۔

Blogger iabhopal said...
ميں مرحوم عامر چيمہ کے گھر نہيں گيا ۔ ميرا خيال تھا جنازہ پڑھنے جاؤں گا ليکن ہماری حکومت جو کسی سے نہ ڈرنے اور ہردل عزيز ہونے کے دعوےٰ کرتی رہتی ہے وہ ايک لاش سے اتنا ڈر گئی کہ اُسے گھر نہ آنے ديا ۔ خير جو معلومات مجھ تک پہنچی ہيں ان کے مطابق عامر نے نيشنل يونيورسٹی فار سائنس اينڈ ٹيکنالوجی جو کہ فوج کی ہے سے بی ايس سی انجنئرنگ پاس کی تھی ۔ صرف وہ سويلين لڑکے وہاں داخل ہو سکتے ہيں جن کے انٹر ميں بہت اچھے نبمر آئے ہوں کيونکہ سويلين کيلئے بہت کم سيٹيں ہيں ۔ عامر جرمنی اعلیٰ تعليم کيلئے گيا ہوا تھا ۔ نہ تو وہ کسی دينی مدرسہ کا پڑھا ہوا تھا اور نہ وہ کسی مُلا کا بيٹا تھا ۔ عامر کے والد نذير صاحب کالج ميں پروفيسر رہے ہيں ۔ ديگر اسلام آباد کے بڑے بڑے روشن خيال کہلانے والے جن ميں سرکاری اہلکار بھی شامل ہيں نہیں مانتے کہ عامر نے خود کُشی کی ہے ۔

Anonymous زکریا said...
آپ کی پوسٹ پڑھ کر تبصرہ کرنے کا سوچا مگر پھر گمنام کا تبصرہ پڑھا اور آپ کی یہ بات بھی:

"شاید یورپ میں کچھ لوگ اپنے مذھب اور اپنے وطن کی حقیقت کو بھول جاتے ھیں۔یا پھر انھیں ان سے محبت
نھیں رھتی اسی لیئے انھیں ھر حقیقت ایک شوشا لگتی ھے۔ویسے آپ جتنا بھی بھاگیں رھیں گے پھر بھی آپ ایک
مسلم پاکستانی ھی جتنا بھی خود کو آزاد خیال کر لیں مغربی لوگ آپ کو پھر بھی جب چا ھیں گے آپ پر القایدہ
ڈال کر آپ کی ساری روشن خیالی کو مٹی میں ملا دیں گے۔"

اس کے بعد میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

Blogger پاکی منڈا said...
زکریا بھائی۔۔

ایک بات تو بتا دیتے، کیا آپ اس لیے کچھ نہیں کہنا چاہتے کیوںکہ میں نے ایک حقیقت بیان کی ہے؟یا آپ کو میری بات بری لاگی میں کچھ سمجھا نہیں برائے مہربانی بتا دیجیے۔

Anonymous Anonymous said...
آپ نے خاور کی بات پر غور کرنے کی بجائے اس پر تنقید شروع کر دی اور اس کے مغرب میں رہنے کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ میں بھی مغرب میں رہتا ہوں میں جو بھی کہوں گا آپ مجھے مغرب‌زدہ کہہ کر نظرانداز کر دیں گے۔

Anonymous زکریا said...
معلوم نہیں پچھلا تبصرہ گمنام کیوں آ رہا ہے جبکہ میں نے اپنا نام لکھا تھا۔