پاکی منڈے کا بلاگ
میرا پیار پاکستان
خود فریبی
Saturday, May 27, 2006

اسلام علیکم
نبیل صاحب نے واقعی بالکل ٹھیک کہا ھے ھم سب واقعی خود فریبی میں مبتلا ھیں۔ھمارے جیسے لوگ کبھی حقیقت کو جاننے کی کوشیش نھیں کرتے ھم تو ایک مظلوم قوم ھیں جو ایک آمر کی قید میں ھیں۔ھمیں ھر وقت کسی ھیرو کی ضرورت رھتی ھے جو کہ ھماری عظمت کا بول بالا کر سکے لیکن ھمارے اندر تو کسی عظمت کا نام و نشان تک نہیں ھے یا پھر رھنے نھیں دیا گیا ھے تو پھر اس کا کیا بول بالا ھو گا۔ھم تو گرے ھوئے لوگ ھیں انسانیئت سے کردار سے اخلاق سے اور شاید ضمیر سے بھی ھم ھیں ھی کیا ھمارا مسلمان ھونا ایک اللہ جل شانہ اور اس کے رسول (صلعم) پر یقین رکھنا اللہ اور اس کے رسول(صلعم)کے لیئے اپنی جان تک دے دینا کیا ھےسوائے خود فریبی کے متحدہ مجلس عمل کا یہ مطالبہ غلط ھے کہ جرمنی سے سفارتی تعلقات حتم کیئے جائیں یہ احمق اور بیوقوف لوگ ھیں جب رسول کریم(صلعم)کی شان میں گستاخی کرنے پر ان سے تعلقات حتم نہیں کیئے گئے تھے تو ایک پاگل آدمی جسکا کہ ذہنی توازن درست نہیں تھا اسکی موت پر ان سے تعلقات کیوںحتم کیئے جائیں۔نشان حیدر عامر چیمہ کو کیوں دیا جائے۔یہ نشان حیدر تو ہماری روشن خیال اور اعتدال پسند حکومت خاص طور پر پرویز مشرف صاحب کو دیا جانا چاہیے، جنہوں نے اتنی بہادری اور جرات سے کئی دلیرانہ اقدامات کیے کئی تنظیمییں نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی تنطیموں بھی صرف اس لیے کے وہ مذہبی ہیں کو کالعدم قرار دیا۔ کئی مدرسے جن میں سے اکثریت صحیح تھی کو سیل کیا۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں فوجی کارروایاں کافی دلیرانہ اقدامات ہیں۔ اوپر سے وطن عزیز میں سے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی حد تک کی گئی کوششیں کچھ روشن خیال اور اعتدال پسند زہنوں کی پیدائیش کافی بہادرانہ اور ستائیش کے قابل ہیں۔ شائد ایسا کرنے سے مرحوم عامر چیمہ کے درجات بلند نہ ہوں مگر پاکستان عالمی دنیا میں ایک بہترین سیکولر ریاست ضرور مشہور ہو جائے گی۔

دوسری جانب کچھ موقعہ شناس (میرے جیسے لوگ) موقع کو بھانپتے ہوئے آنسو بھرے کالم لکھتے ہیں اپنے کالموں کی شہرت کے لیے ۔ اس چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ کچھ روشن خیال اعتدال پسند لوگوں کے دل ہماری خود فریبی کی باتوں سے دکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے میں دل کی گہرائیوں سے معافی چاہتا ہوں مگر ایک بات میں ان لوگوں سے ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہر کالم نویس بقول ہمارے دوست نبیل صاحب کے کالم کو بیچنے کے لیے لکھنے والا نہیں ہوتا۔ ویسے کالم بیچنا ضمیر بیچنے سے سو فیصد بہتر ہے۔ ہم لوگ حقائق کو مسخ کرتےہیں اور وہ بھی ڈھٹائی سے یہ کافی غلط بات ہے۔ ہمیں ہر کام اعتدال پسندی سے کرنا چاہیے اور لوگوں تک حقیقت پہنچنے دینی چاہیے جیسے کے لوگ ہم پر بیٹھے ہیں اور خود اندھے ہیں کمال ہے بھئی۔ اسی اعتدال پسند حکومت کے بے انتہا اعتدال پسند ٹی وی جیو نیوز اور اے آر وائے اور جنگ اخبار پر یہ خبر دیکھی گئی ہے کہ ایف آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک پاگل جس کا زہنی توازن درست نہیں تھا خود اس نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے جان سے مار دیا گیا مطلب "شہید" کر دیا گیا۔ اب پتہ نہیں یہ غلط خبر کیوں شائع کی گئی پتہ نہیں پاکستانی پتھالوجسٹ ٹھیک کہتے ہیں یا پھر ایف آئی اے والوں کو غلطی لگی ہو گی۔ سوچنے کی بات ہے، اگر عامر چیمہ کا زہنی توازن درست نہیں تھا تو وہ جیل میں کیوں تھا؟ اسے کسی پاگل خانے میں علاج کی لیے بھیج دیا جانا چاہیے تھا۔ صرف مزاحمت کے لیے اسے اتنا عرصہ جیل میں کیوں رکھا گیا جبکہ دوران پوچھ گچھ پولیس کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ وہ زہنی مریض ہے۔ ہماری عوام اندھی اور بیوقوف نہیں جو بغیر ثبوت کے ہر بات پر یقین کر لے۔ مذہبی جماعتیں ضروری نہیں ہر کام جھوٹ اور انتہا پسندی سے کریں کچھ حقیقت بھی تو ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتیں جان بوجھ کر کیوں نفرت پھیلاتی ہیں اس کی وضاحت کریں۔ مغرب زدہ ان کو قرار دیا جاتا ہے جن کی سوچ مغربی ہوتی ہے۔ جو شخص مذہب سے اختلافات پیدا کرتا ہے لوگ اسے کافر اور مغرب زدہ ہی کہتے ہیں، یہ میری زاتی رائے نہیں ہے۔
ہالینڈ کے فلم ساز کا قتل بہت افسوسناک ہے۔ یہ انتہا پسندی ہے۔ اس فلم ساز کو کہنا چاہیے تھا کے سر ایسا کریں دو تین سین اور شامل کر لیں زلیل کریں مسلمانوں کو جتنا دل چاہے۔ ہمارے عام لوگوں کے گھروں میں عورتوں سے کیا کیا بدسلوکی ہوتی ہے اس پر کچھ وضاحت کریں۔ فلم ساز کو مارنا غلط تھا میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس میں اسلام کو کیوں لایا جا رہا ہے۔ اسلام کو کسی بول بالے کی ضرورت نہیں مسلمانوں پر پہلے سے کیا کم عرصہ حیات تنگ کیا گیا تھا۔ مساجد کو کیا پہلے نہیں جلایا جاتا تھا۔ یہاں مجھے نبیل صاحب کے جملے پر اعتراض ہے وہ یہ کے آپ نے مساجد کو شہید کیوں نہیں لکھا؟ کیا یہ بات متحدہ مجلس عمل نے تو نہیں کہی تھی یا پھر کسی دوسری مذہبی جماعت نے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کے مساجد بھی شہید ہوتی ہیں یا اس بار مساجد کا بھی زہنی توازن درست نہیں تھا جو اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکیں؟۔
اصل لڑائی شروع کرنے والے واقعی یہودی ہی ہیں اس میں شک والی بات نہیں۔ اب تک کتنے مظلوم مسلمان مارے گئے ہیں اور کون انہیں مار رہا ہے۔ مگر ہمیں اعتدال پسند رہنا ہے سب کچھ بھول جانا ہے لیکن مغرب کو ہر ہر حال میں اعتدال دکھانا ہے کیوں کے یہ ایک "ضمنی" سی بات ہے، ہے نا؟
9:01 PM کو پاکی منڈا.نے تحریر کیا
1 Comments:
Anonymous زکریا said...
آپ کی اس پوسٹ میں بہت سی باتیں ہین مگر میں نے عامر چیمہ کے بارے مین زیادہ تحقیق نہیں کی اس لئے اس پر بات نہیں کروں گا۔

البتہ آپ خواہ مخواہ یہودیوں پر الزام دے رہے ہیں۔ یہ اس بغض کو ظاہر کرتا ہے جو آجکل بہت سے مسلمانوں میں یہیودیوں کے خلاف سرایت کر گیا ہے۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر۔