<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851</id><updated>2011-10-27T19:46:59.378+05:00</updated><title type='text'>پاکی منڈے کا بلاگ</title><subtitle type='html'>میرا پیار پاکستان</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>18</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115600362002595803</id><published>2006-08-19T20:58:00.000+05:00</published><updated>2006-08-19T21:07:00.046+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>لطائفدوستوں کی خدمت میں چند لطائف خاضر ھیں امید ھے پسند آئیں گے&lt;br /&gt;&lt;div align="justify"&gt;پہلی مرتبہ عشق میں گرفتار ھونے کے بعد عبدالقدوس صاحب بھاگے بھاگے اپنے ایک دوست کے پاس گئے۔حال دل سنانے کے بعد انھوں نے کہا میں اس پری نما حسینہ سے شادی کرنا چاھتا ھوں کوئی ایسی ترکیب بتاو کہ وہ شادی پر رضا مند ھو جائےدوست نے کہا یہ تو بہت آسان بات ھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو میں تم سے محبت کرتا ھوں غزالہ۔۔۔۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟عبدالقدوس صاحب کا چہرہ لٹک گیا۔مجھے افسوس ھے میں یہ بات اس سے ھر گز نہیں کہ سکتادوست نے پوچھا کیوں؟کیوں ؟کیوںکہ اس کا نام غزالہ نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++ایک خاتون کو اپنے شوہر پر بلا وجہ شک کرنے کی عادت تھی جب بھی وہ دفتر سے یا پھر کسی جگہ سے واپس آتا تو اسکے کوٹ کی کو بڑی عرق ریزی سے چیک کرتی اگر ایک بال بھی نظر آجاتا تو پھر بیچارے شوہر کی شامت ہی آ جاتیتھی۔ایک دن شوہر دفتر سے گھر آیا  تو اس نے اسکے لباس کو پوری طرح چیک کیا لیکن کچھ نظر نا آیا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے منہ بسورتے ھوئے کہا‘اب تم نے گنجی عورتوں کے ساتھ بھی دوستی کرنی شروع کردی ھے“+++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++ایک موجد اپنی ایجاد کردہ گھڑی دکھا رہا تھا اور اسکی خصوصیات بیان کرتے ھوئے کہ رہا تھا۔اس گھڑی کی سب سے بڑی خوبی یہ ھے کہ آپ اس گھڑی سے سیکنڈ کا ھزارواں حصہ بھی معلوم کر سکتے ھیں۔تب تو یہ ایک مفید ایجاد ھے۔ایک اخبار نویس نے کہااس سے کم از کم یہ تو معلوم ھو جائے گا کہ ایک عورت کو اپنی بات سے پھرنے میں کتنی دیر لگتی ھے۔۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115600362002595803?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115600362002595803/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115600362002595803' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115600362002595803'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115600362002595803'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/08/blog-post_19.html' title=''/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115545953457262230</id><published>2006-08-13T13:52:00.000+05:00</published><updated>2006-08-13T13:58:54.586+05:00</updated><title type='text'>ایک کہانی</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;ایک دفعہ کا زکر ھے دنیا کے کسی حصے میں ایک علاقہ تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہا کرتے تھے۔وہان پر مسلمانوں کی بادشاہت تھی جو ایک لمبے عرصہ تک جاری رھی مسلمانوں کی بادشاہت میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی امن اور سکھ چین کے ساتھ زندگی بسر کر رھے تھے کہ اچانک وقت نے پلٹا کھایا اور چند ایمان فروش غداروں نے غداری کی اور فرنگیوں کے ھاتھوں اپنے اس علاقہ کا سودا کر لیا اپنے ملک کے راز انکے ہاتھوں فروحت کر کے ڈھیر سارا مال حاصل کیا اس وقت کا بادشاہ اپنی آحری سانس تک دشمنوں سے لڑا مگر غداروں کی وجہ سے وہ شھید ھو گیا اور اس علاقہ پر فرنگیوں کا قبضہ ھو گیا جو کہ ایک لمبھے عرصہ تک اس علاقہ پر خکومت کرتے رہے اسی دوران اسی علاقے کی ایک غیر مسلمان اکثریت نے فرنگیوں کے ساتھ مراسم پیدا کرنے شروع کر دیئے پہلے تو یہ اکثریت بھی فرنگیوں کے خلاف لڑتی رہی مگر جب دیکھا کے لڑنے کے بجائے دوستی میں فائدہ ھے تو انہوں نے مکاری سے کام لیا اور دوسری قوموں سے غداری کرتے ھوئے انہوں نے فرنگیوں سے تعلقات بڑھانے شروع کر دئے اسکے لئے انہوں نے ہر وہ کام کیا کے جس کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے تھے یا پھر مسلمانوں کا مذہب انھیں اس گھٹیا پن کی اجازت نہیں دیتا تھا۔انہی لوگوں نے فرنگیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دورانیاں شروع کر دیں۔آہستہ آہستہ ان لوگوں کا سیاست میں اثرورسوخ بڑتا گیا اور انکی سازشیں بھی بڑھنے لگیں ان میں سے بھی کچھ لوگ جو اچھی سوچ کے خامل تھے نے انہیں ان ریشہ دوراینیوں  سے باز رہنے کی تلقین کی مگر ایک خاص طبقہ جو مسلمانوں کے سخت خلاف تھا نے اور پاور میں تھا نے ان لوگوں کو ڈرا دھمکا کے چپ کرا دیا مسلمانوں کے خقوق سلب کئے جانے لگے انکو سرکاری نوکریوں سے نکلوایا جانے لگا مسلمانوں کی مائوں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلا جانے لگا مسجدوں میں مرے ھوئے کتے اور سور پھینکے جانے لگے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا غرضیکہ مسلمانوں کو جینا دوبھر کر دیا گیا مسلمان بیچارے مظلوم بن کر رہ گئے۔انھی دنوں مسلمانوں کے لیڈر جو کہ پہلے اسی قوم کے ساتھ مل کر فرنگیوں سے آزادی خاصل کرنا چاھتے تھے  اور امن اور پیار سے اسی قوم کے ساتھ مل کر رہنا چاھتے تھے انکا ماتھا ٹھنکا انہوں نے سوچا یہ لوگ ابھی سے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ھیں ملک آزاد ھونے کے بعد کیا خال کرے گے انہوں نے اسی قوم کے لیڈروں سے بات کی تو انہوں نے مکارانہ طریقے سے مسلمانوں کے لیڈر کو قائل کرنا چاھا مگر مسلمانوں اس لیڈر کو یہ بات سمجھ میں آگئی کے یہ صرف شیشے میں اتارنے والی باتیں ھیں اور بس۔انھی دنوں مسلمانوں کے ایک شخص نے ایک الگ مسلمان وطن کا خواب دیکھا اور اسی خواب کو مسلمانوں کے اس لیڈر تک پہنچایا وہ لیڈر بھی اس خواب کو سن کر بہت خوش ھوئے اور انہیں لگا جیسے قدرت نے انہیں ایک رستہ دکھایا ھے اس لیڈر نے اس خواب کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے پورا زور لگایا اور اتنی محنت کی کہ ایک خطرناک بیماری کا شکار ھو گئے مگر اپنی کوشیش جاری رکھی آخر اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے انکی مخنت کا صلہ عنائت فرمایا اور مسلمانوں کو انکا ایک آزاد مسلمان وطن عطا فرمایا مسلمان بہت خوش تھے کہ انھیں اپنا آزاد ملک ملا ھے اب وہ آزادی سے رہ سکیں گے کوئی انکی مساجد میں مرے ھوئے کتے اور سور نہیں پھینکے گا کوئی انکی ماں بہن کی عزت کے ساتھ نہیں کھیلے گا مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نا رہ سکی مسلمان مہاجرین سب اس آزاد ریاست کی طرف ہجرت کرنے لگے یہ بات دوسری قوم کو برداشت نا ھو سکی انھوں ایک تیسری قوم کو آگے لگایا جنھوں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا لاکھوں مسلمانوں کو وطن پہنچنے سے پہلے ھی شہید کر دیا گیا انکی عورتوں کی عزتیں لوٹ لی گئی چھوٹے چھوٹے بچوں کو نیزوں اور تلواروں پر اچھالا گیا جب مہاجریں کی ٹرینیں وطن واپس پہنچتی تو ان میں لاشوں کے ڈھیر لگے ھوتے خون میں بھتی یہ ٹرینیں مسلمانوں کے سینے چیرتی ھوئی واپس آتی مگر پوری دنیا میں کسے کوئی پرواہ نہیں تھی مسلمان شہید پر شہید کئے جا رھے تھے مگر سب تماشا بنے ھوئے دیکھ رھے تھے اس پر فرنگیوں کی شہ پر اس قوم نے مسلمانوں کے ایک علاقہ پر زبردستی قبضہ کر لیا وہاں پر بھی ھزاروں لاکھوں مسلمانوں کا خون اچھالا گیا تقسیم کے وقت بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور انھیں پوری رقم ادا نھیں کی گئیں مسلمان غربت اور تنگی سے آہستہ آہستہ جینے لگے مگر کسی کے دل میں کسی سے کوئی گلہ نھیں تھا وہ آزاد تھے یہ راخت انکی ھر تکلیف مندمل کر دیتی تھی جو کچھ بھی تھا انکا اپنا تھا لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرنے لگے مگر قسمت کے برا وقت ابھی ٹلا نہیں تھا آزاد ھونے کے ایک برس کے اندر مسلمانوں کا وہ عظیم لیڈر انھیں تنہا چھوڑ کر خالق خقیقی سے جا ملا پوری قوم کو اشقوں میں ڈوبا چھوڑ کر جا چکا تھا اسکے ساتھ ایک سال کے اندر ھی اسی ملک پر اسی قوم نے حملہ کر دیا مسلمانوں کا بہت نقصان ھوا دشمن قوم کے پاس زیادہ پیسا تھا زیادہ فوجی طاقت تھی اوپر سے فرنگیوں کا ساتھ تھا مسلمان اکیلے پڑ گئے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے ھمت نہیں ہاری تھی اور انکا جم کر مقابلہ کیا اس سے قطعا نظر کے جنگ میں جیت ھوئی یا ہار مسلمانوں کا جزبہ دیکھنے کے لائق تھا۔اس جنگ کے بعد اس ملک کے مسلمانوں نے محنت کی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا اس ملک کے خالات پلٹا کھاتے رھے ملک بنے کے بعد کئی بار فرقہ ورانہ لڑائیاں لگوائی گئیں  کئی بار ملک پر دشمن قوم کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی کئی بار ملک آمریت کے قبضہ میں آیاپھر ایک بار جبکہ ایک پھر غدار کے زیر سایا آگیا اس غدار بلکہ غداروں نے پھر سے تاریخ دہرائی ایک طرف آمر اور دوسری طرف قوم پرست زبان پرست غداروں نے اپنا ایمان بیچا چند فرنگی طاقتوں نے اور اسی دشمن قوم نے ان غداروں سے مل کر اس وطن کے دو ٹکڑے کر دئے ایک عظیم انسان کا خواب اور ایک عظیم لیڈر کا وطن ان ایمان فروشوں نے دشمنوں سے مل کر توڑ دیا۔اس وقت پھر سے وہی کام کیا گیا مسلمان فوجیوں کے روپ میں اسی دشمن قوم کے فوجیوں نے مسلمان ملک کے دوسرے حصے کے مسلمانوں کا بے دریغ خوں بہایا اس کام میں انکے غدار لیڈر نے اسی قوم کا پورا ساتھ دیا اور اس خون ریزی کا سارا مدعا اسی خصہ کے مسلمانوں پر ڈال دیا گیا زیادتی یہان کے غدار خکمران کی طرف سے بھی کی گئی بھائی بھائی کی طرح رہنے والوں کو دشمن بنا دیا گیا بیچارے وہی لوگ مارے گئے جو کے اس وطن کے ٹکڑے نہیں ھونے دینا چاھتے تھے مگر قدرت کو کچھ اور ھی منظور تھا مگر قدرت مجبور اور بیسہارہ لوگوں کا انتقام خود لیتی ھے اور ایسا ھی وہ سارے غدار کتے کی موت مارے گئے۔یہان پر اکتفا نہیں ھوا کئی بار ملک پر آمریت کا راج ھوا مگر ایک بار آمریت ھی اس ملک کے لوگوں کے کام آ گئی ھوا یوں کہ ایک بار پھر ایک غدار آڑے آ گیا اس نے مہاجرین کا شوشہ کھڑا کر دیا کہ یہان مہاجرین کو انکے حقوق نہیں ملتے انسے زیادتی ھوتی ھے اس نے اسی وطن کے ایک بزنس کیپیٹل پر اپنا آپ مضبوط کیا اور لوگوں کو ھراسان کیا بھتہ لیا دھشت گردی غرضیکہ ھر غلط کام کیا کہ جس سے اتنے بڑے بزنس کیپیٹل کا بزنس تباہ ھو جائے اور مہاجریں کا مسلہ کھڑا کرکے تقریبا“ اسی شہر کو ملک سے الگ کر دینے ھی والا تھا مگر اس وقت کی حکومت اسکے آڑے آ گئی اور اس کا سارا نیٹورک تباہ کرکے رکھ دیا حکومت کی اس بر وقت کاروائی پر وطن کا سب سے بڑا شہر وطن سے الگ ھوتے ھوتے رہ گیا شائد قدرت کو اس وطن کے ٹکڑے ھونا منظور نہیں تھا یا پھر لوگوں کو پچھلہ صدمہ بھولا نہیں تھا اسی لئے وطن بچ گیا اسی غدار کو پہلے حکومت استعمال کرتی رھی مگر جب وطن کو بچانے کا وقت آیا تو حکومت نے ایک دانشمندانہ اقدام کیا۔اسکے بعد  کچھ عرصہ وطن میں جمہوریئت رھی اسی دوران ایک عام سا ملک کچھ اچھے لوگوں کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گیا یہ بات اسی وطن کے دشمنوں کو بہت کھٹکی انہوں نے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گئیں۔مگر اس مسلمان قوم نے سب کچھ برداشت کیا لوگ اپنے سیاست دانوں سے بہت خوش ھوئے اور اس سے زیادہ اپنے سائنسدانوں کے شکر گزار ھوئے اس ملک کے ایک سائنسدان کو لوگ خود سے زیادہ چاھنے لگے حد سے زیادہ اسکی عزت کرنے لگے اسے اپنا ھیرو ماننے لگے مگر یہ خوشی کا عرصہ بھی زیادہ دیر قائم نا رہ سکا ایک بار پھر سے ملک پر آمریت نے قبضہ کر لیا اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے اسلام کے خلاف جو کچھ کر سکتا تھا کیا اپنے قومی ھیروز کو زلیل کیا اسی سائنسدان جس نے ملک کو ایک ایٹمی طاقت بنا کر دشمنوں کو منہ بند کیا اسے بھی زلیل کروایا ایک بار پھر غدار نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ھے ایک طرف چند بکے ھوئے غدار سردار اور دوسری طرف ایک مغرب نواز آمر دونوں مل کر ملک کو پھر سے ٹکڑوں کی شکل میں بانٹ دینا چاھتے ھیں یہ تو اب اس قوم کو سمجھنا چاھئے کے مومن ایک سانپ سے دو بار نہیں کٹواتا اس قوم کو پچھلے تمام اسباق سے سبق خاصل کرنا چاھئے۔خیر اسی آمر نے ایک اور غدارانہ کام کیا کے اسی مسلمان ملک کے لوگوں کو اسی دشمن قوم کے پیچھے لگا رہا ھے جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ھیں اور اس قوم کی بھی بے حسی دیکھنے کے لائق ھے کہ یہ انہی دشمنوں کے پیچھے چلنے میں اس قدر مگن ھے کی ایک دن اپنی پہچان ھی کھو دے گی اس لئے ھم پاکستانیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاھئے کہ ھم شیعہ سنی فرقہ واریت زبان پرستی سردار پرستی قوم پرستی کو چھوڑ کر اگر وطن پرستی اور اسلام پرستی کا دامن تھام لیں تو یہی ھمارے لئے بہتر بھی ھے اور یہی ھمارے لئے نجات کا راستہ بھی ھے۔ھم پاکستانی ھیں ھماری اپنی پہچان ھے ھمیں خود کو پہچاننا چاھئے کہ ھم کون ھیں اور ھماری منزل کیا ھے۔١٤ اگست کی خوشیوں میں اپنے لبنانی بھائی بہنوں کے غم و درد کو مت بھولئے گا جو پیسے ١٤ اگست میں جھنڈیوں اور دوسری چیزوں پر ضائع کرنے ھیں انکو لبنانی بھائیوں کی مدد کرنے پر استعمال کریں۔جھنڈیان لگانے سے وطن پرستی ظاھر نہیں ھوتی اس کے لئے وطن کے لئے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ھے۔١٤ اگست کے بعد جب جھنڈیوں کو زمیں پر گرے ھوئے اور اوپر سے لوگوں کو جوتوں سمیت گزرتے دیکھتا ھوں دل میں ایک شدید چبھن اور درد کا احساس ھوتا ھے۔&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;&lt;br /&gt;اب کس کا جشن مناتے ھواس دیس کا جو تقسیم ھو&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ااب کس کے گیت سناتے ھواس تن من کا جو دو نیم ھوا&lt;br /&gt;اس خواب کا جو ریزہ ریزہانکی آنکھوں کی تقدیر ھو&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ااس نام کا جو ٹکڑے ٹکڑےگلیوں میں بے توقیر ھوا&lt;br /&gt;اس پرچم کا جسکی حرمتبازاروں میں نیلام ھوئی&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس مٹی کا جسکی حرمتمنسوب عدو کے نام ھوئی&lt;br /&gt;اس جنگ کا جو تم ھار چکےاس رسم کا جو جاری بھی نہیں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس زخم کا جو سینے پہ نا تھااس جان کا جو واری بھی نہیں&lt;br /&gt;اس خون کا جو بد قسمت تھاراھوں میں بہایا تن میں رہا&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس پھول کا جو بے قیمت تھاآنگن میں کھلا یا بن میں رہا&lt;br /&gt;اس مشرق کا جسکا تم نےنیزے کی انی مرھم سمجھا&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا&lt;br /&gt;ان معصوموں کا جنکے لہوسے تم نے فروزاں راتیں کیں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;یا ان مظلوموں کا جن سےخنجر کی زباں میں باتیں کیں&lt;br /&gt;اس مریم کا جس کی عفتلٹتی ھے بھرے بازاروں  میں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس عیسا کا جو قاتل ھےاور شامل ھے غم خواروں میں&lt;br /&gt;ان نوحہ گروں کا جن نے ہمیںخود قتل کیا خود روتے ھیں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ایسے بھی کہیں دم ساز ھوئےایسے جلاد بھی ھوتے ھیں&lt;br /&gt;ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کاجو رقص سر بازار کریں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;یا ان ظالم قزاقوں کاجو بھیس بدل کر وار کریں&lt;br /&gt;یا ان جھوٹے اقراروں کاجو آج تلک ایفا نہ ھوئے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;یا ان بے بس لاچاروں کاجو اور بھی دکھ کا نشانہ ھوئے&lt;br /&gt;اس شاھی کا جو دست بدستآئی ھےتمھارے حصے میں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;کیوں ننگ وطن کی بات کروکیا رکھا ھے اس قصے میں&lt;br /&gt;آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو ھونٹوں پہ وفا کے بول لئے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اس جشن میں میں بھی شامل ھوںنوحوں سے بھرا کشکول لئے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;تمام لوگوں کو جشن آزادی مبارک۔ اللہ ہمارے وطن کو سدا آباد رکھے آمین۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115545953457262230?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115545953457262230/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115545953457262230' title='20 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115545953457262230'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115545953457262230'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/08/blog-post_13.html' title='ایک کہانی'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>20</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115488155698494753</id><published>2006-08-06T21:24:00.000+05:00</published><updated>2006-08-06T21:25:57.000+05:00</updated><title type='text'>انکل اجمل کو سالگرہ مبارک</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اسلام علیکم۔&lt;br /&gt;آج زکریا کی تحریر سے معلوم ھوا کہ آج انکل اجمل کی سالگرہ ھے۔ سوچا انہوں نے تو اپنے بلاگ پر ابھی بتایا نہیں تو چلو ایک تحریر ان کے نام کرتے ھیں۔&lt;br /&gt;سالگرہ مبارک انکل!!! اللہ تعالیٰ آپ کو یہ دن بار بار دیکھنا نصیب فرمائے اور آپ یونہی ھمیں راھ راست دکھاتے اور معلومات سے نوازتے رھیں۔ آمین۔ آپ کی اس خوشی میں شامل ہونے کا دل چاھتا ھے لیکن ابھی تو یہ ممکن نھیں۔ بھرحال میں پوری اجمل فیملی اور تمام بلاگرز کو کیونکہ ہم تمام بلاگرز بھی ایک فیملی ھی ھیں کو مبارک باد پیش کرتا ھوں۔سیارہ پر اب پھلے جیسی رونق نھیں لگتی لوگ ایک دوسرے سے اکھڑے اکھڑے سے لگتے ھیں۔ میں تو پھلے بھی کم ھی لکھتا ھوں لیکن بھت سا لکھنے والے آج کل غائب ھیں۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ھماری فیملی کو۔ کچھ نا شائستہ لوگوں کی وجہ سے ھماری کمیونٹی خراب ھو گئی۔ جس پر رد عمل میں میں نے بھی نا شائستہ باتیں لکھ دیں لیکن وہ سب غصہ میں کیا تھا جس کی معافی مانگ چکا ھوں۔ خصوصا اپنے خاص بلاگرز سے۔ میں ایک اپیل پھر کرونگا کہ بلاک کیے گئے ساتھیوں کو دوباہ شامل کیا جائے۔ بیشک مجھے شامل نہ کیا جائے کیونکہ میں خود ھی یہاں سے نکل جانے کا کہ چکا ھوں سیارے کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے۔ لیکن وہ سب جیسے بھی ھیں ان کے ساتھ رونق تھی۔ بدتمیز نے مجھے جو میل کی تھی اس میں باقی لوگوں کا بھی ایڈریس شامل تھا سے ظاھر ھوا کہ اس نے کافی لوگوں کو اس سے مطلع کیا تھا۔ میں نے غصہ میں خود گالی گلوچ کر دی کیونکہ کسی دوسرے نے کوئی ایکشن نھیں لیا تھا۔ جبکہ شیخو صاحب نے وہ الفاظ جوں کہ توں بلاگ پر دے دیے ٹھیک کیا لوگوں کو پتہ چلنا چاھیے تھا لیکن وہ لکھ دیتے کہ معزرت خواتین یہ تحریر نہ پڑھیں یا ھم معافی چاھتے ھیں۔ مجھ سے بھی یہی غلطی ھوئی لیکن جیسے ھی یاد آیا میں نے فورا پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔اس کے بعد عتیق صاحب نے بھی اس پر رد عمل کے طور پر لکھا اور جو لکھا بالکل ٹھیک لکھا ھم نے جو کچھ بھی لکھا تھا اس میں انڈین مسلمانوں کے خلاف کچھ نھیں لکھا تھا وہ ھمارے بھائی ھیں ھم جیسے ھیں اس کے باوجود اگر کسی کو برا لگا تو میں معزرت چاھتا ھوں۔۔ سیارہ کو چاھیے تھا پھلے انھیں خبردار کرتے۔ میں اب زیادہ تر راکٹ پڑھتا ھوں لیکن سیارہ بھی نھیں چھوڑا اس کو بھی پڑھتا ھوں لیکن شیخو نے تمام بلاگرز کو جوں کا توں رکھا ھے جو کے سیارہ پر بھی تھے۔ زکریا اور انتظامیہ کے دوسرے لوگوں سے التماس ھے کہ اس کو کمپیٹیشن خیال نہ کیا جائے اس سے بھی اردو کی خدمت ھوگی۔ اور بدتمیز اور شیخو کو دوبارہ شامل کر لیا جائے ھمیں ایک دوسرے کی دل آزاری نھیں کرنا چاھیے۔ اسی موقع پر احمد فراز صاحب کی ایک غزل۔&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;&lt;br /&gt;ستم گری کا ھر انداز محرمانہ لگ&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;امیں کیا کروں مجھے میرا دشمن برا نہ لگا&lt;br /&gt;ھر اک کو زعم تھا کہ کس کس کو ناخدا کھتے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;بھلا ھوا کہ سفینہ کنارے جا نہ لگا&lt;br /&gt;میرے سخن کا قرینہ ڈبو گیا مجھ کو&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;کہ جس کو خواب سنائیں اس کو فسانہ لگا&lt;br /&gt;برون در نہ کوئی روشنی نہ سایا تھا&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;سبھی فساد مجھے اندرون خانہ لگا&lt;br /&gt;میں اب تھک گیا تھا بہت پے بہ پے اڑانوں سے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;جبھی تو دام بھی اس بار آشیانہ لگا&lt;br /&gt;اس عھد ظلم میں میں بھی شریک ھوں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;جیسےمیرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا&lt;br /&gt;وہ لاکھ زود فراموش ھو فراز مگر&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اسے بھی مجھ کو بھلانے میں اک زمانہ لگ&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;امید ھے سیارہ اور راکٹ بغیر آپس میں لڑے اردو کی ترویج میں مل کر کام کریں گے۔ اللہ ھمیں آپس میں پیار محبت سے رھنے کی توفیق عطا فرمائے اوراسلام اردو اور پاکستان کی مل کر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115488155698494753?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115488155698494753/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115488155698494753' title='18 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115488155698494753'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115488155698494753'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/08/blog-post_06.html' title='انکل اجمل کو سالگرہ مبارک'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>18</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115459142348039564</id><published>2006-08-03T12:19:00.000+05:00</published><updated>2006-08-03T12:50:23.493+05:00</updated><title type='text'>اپیل</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;ھم چند دوست آپس میں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے کہ اسرائیل نے لبنان اور فلسطین کے سینکڑوں لوگوں کو شہید کر دیا ھے ھمیں کچھ کرنا چاھئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کرنے کا ارادہ ھے ایک کہنے لگا میں لبنان جاونگا جہاد کرنے دوسرے کا خیال بھی اس سے ملتا جلتا تھا کہ کب تک ھم مسلمانوں کو یوں مارتے رہیں گے یہ مردود انکا کچھ تو کرنا چاھئے میں نے انسے کہا کہ بھائی آج کل جہاد کو دھشت گردی کا نام دیا جاتا ھے کوئی اپنے حق کے لئے بھی کیوں نا لڑ رہا ھو اگر وہ مسلمان ھے تو دھشت گرد ھے اگر کسی دوسرے مذھب سے ھے تو اپنے حق کی لڑائی ھے اپنی آزادی کی لڑائی ھے بھلا امریکا کی آزادی کو افغانستان اور عراق سے کیا خطرہ ھو سکتا تھا خیر بات دوسری جانب نکل گئی میں نے دوستوں سے کہا کے ھم فوجی نہیں جو یوں جنگ کریں اور جہاد کا نام بھی مت لینا ورنہ حکومت ایک پل میں القائدہ سے تعلق جوڑ دے گیویسے بھی عالمی سطح پر پاکستان کو ھمیشہ دھشتگرد ریاست کے نام سے جانا جاتا ھےاگر لبنان میں کوئی عام پاکستانی بمباری میں مرے تو امریکا اور یورپ اسے جہادی اور القائدہ کا رکن ثابت کرکے مدعا پاکستان پر ڈال دیں گے اس پر میرے دوستوں نے پوچھا کہ کیا ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر تماشہ دیکھتے رھیں میں نے انسے کہا کہ زیادہ جزباتی ھونے کی ضرورت نہیں دماغ سے کام لینا چاھئے اگر کچھ کرنا ھے تو پیسے اکٹھے کرتے ھیں اور جتنے پیسے اکٹھے ھونگے انسے خوراک اور دوائیاں خرید کر خکومت کے حوالے کرتے ھیں جو یہ سامان لبنان اور فلسطین کے بیسہارہ لوگوں تک پہنچا دیں گے اس پر وہ دونوں قائل ھو گئے ھم نے سب سے پہلے اپنی جیبوں کی تلاشی لی کل ملا کر پانچ ھزار روپے ھوگئے ایک دوست کا پنہ لٹک گیا کہنے لگا اس سے کیا ھوگا میں کہا خوصلہ رکھو دوسروں سے بھی مدد مانگتے ھیں اسکے بعد پہلے اپنے گھر والوں سے پھر رشتہ داروں سے اور دوستوں محلہ داروں سے اس کار خیر کے لئے مدد مانگی الحمدللہ سب نے دل کھول کر مدد کی اس سے جتنے پیسے بھی ھوئے ھم نے اپنے ناظم کو دے دئے جسنے ھماری نگرانی میں خوراک اور دوائیاں خریدیں اور اپنے پاس سے بھی پچیس ھزار روپے شامل کر کے سامان خکومتی اہلکاروں کے حولے کر دیا اس پر دل پر سے کافی بوجھ ہلکا ھوا بات کو اتنا لمبا کھینچنے کا مقصد آپ سب بلاگرز سے گزارش یا اپیل ھے کہ سب لوگ ھمارے مظلوم بھائوں کی مدد کے لئے جتنا ممکن ھو سکے مدد کریں کوشیش کریں کے زیادہ تر خوراک اور دوائیاں خریدیں کیوں کہ ھمارے لبنانی اور فلسطینی بھائی بہنوں کو ھماری مدد کی ضرورت ھے اس لئے سب لوگ ایسا ھی کریں جیسا ھم لوگوں نے کرنے کی کوشیش کی ھے یقین مانئے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ھے اللہ ھمیں مسلمانوں بلکہ انسانیت کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115459142348039564?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115459142348039564/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115459142348039564' title='25 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115459142348039564'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115459142348039564'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/08/blog-post.html' title='اپیل'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>25</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115349883725034885</id><published>2006-07-21T20:36:00.000+05:00</published><updated>2006-07-21T21:20:37.306+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اسرائیل نے فلسطین اور لبنان پر حملہ کیا کر دیا لوگوں نے تو آسمان سر پے اٹھا رکھا ھے کیا ھو گیا ھے کہ اگر کچھ لوگ روزانہ مارے جا رہے ھیں اس میں اتنا غصہ کرنے والی کونسی بات ھےمسلمان ھی مر رہے ھیں کوئی انسان تو نہیں مر رہے بھئی جو طاقت میں ھے وہ تو اپنا آپ دکھائے گا ھی ھمیں اس سے کیا لگے پھلے کیا کم لوگ عراق اور افغانستان میں مر رہے ھیں کیا ھوا انکا کچھ بھی نہیں بیچاروں کی اوقات ھی کیا تھی انھوں نے تو جنم ھی امریکیوں سمیت اتحادی افواج کے ھاتھوں مرنے کے لئے لیا تھا ویسے ان لوگوں کے مرنے سے ھم لوگوں کا تو کوئی نقصان نہیں ھوا تو پھر شور مچانے سے کیا فائدہ۔ھمیں چپ رہنا ھوگا اپنے لئے اپنے ملک کے لئے اگر چھوڑنا پڑے اپنا مذہب تب بھی چپ رہنا ھے اپنے لئے اپنے ملک کے لئے اور انتظار کرنا ھے اس پل کا جب ان لوگوں کی جگہ ھم پر بمباری ھوگی ھم مریں گے ھمارے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچے مریں گے مگر ھمیں کیا ھمیں تو چپ رہنا ھے اور انتظار کرنا اس وقت کا جب ھماری روشن خیالی اور اعتدال پسندی ھمیں شائد ان سے بچائے گی جو نعوذباللہ خدا بن بیٹھے ھیں ھمیں کیا کوئی جیتا ھے جئے کوئی مرتا ھے مرے ھم کو تو چپ رہنا ھے اور دیکھنا ھے اس ملک کے بدلتے ھوئے خالات کو کے کیسے ایک اسلامی وطن فرعونیت کی بھینٹ چڑھ رہا ھے مگر ھمیں چپ رہنا ھے اوع مگن رہنا ھے اپنے آپ میں مگر میں ڈرتا ھوں اس چپ سے جو ایک دن ھمیں چپ چاپ اسلام سے نکال کر کفر میں ڈال دے گی یہی چپ اک دن ھمیں لے ڈوبے گی کیوں کہ ھمیں چپ رہنا ھے کہ ھم کوئی مسلمان نہیں ھمیں چپ رھنا ھے کہ شائد ھم بھی انسان نھیں ۔(روشن خیالوں اور اعتدال پسندوں سے معذرت)&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115349883725034885?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115349883725034885/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115349883725034885' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115349883725034885'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115349883725034885'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/07/blog-post_21.html' title=''/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115245896969604990</id><published>2006-07-09T20:27:00.000+05:00</published><updated>2006-07-09T20:29:29.710+05:00</updated><title type='text'>Parental Guidness is advised for the younger Bloggers</title><content type='html'>چند دن پہلے میں کمپیوٹر پر بیٹھا بلاگ پڑھنے میں مصروف تھا کے میرا ١٢ سال کا کزن کمرے میں داحل ھوا اور کہنے لگا کے بھائی جان آپ رات کو ٹی وی دیکھتے ھیں مینے کہا ھاں سٹار مویز اورایچ بی او پر رات کو فلم دیکھتا ھوں تو وہ بڑے ھی پراسرار انداز میں میرے نزدیک آیا اور کہا بھائی کان پاس لائیں دیواروں کے بھی کان ھوتے ھیں میں نے مسکراتے ھوئے کان آگے بڑھایا تو کان میں آہستہ سے بولا بھائی رات کو ایم نیٹ پر بہت مزے کی فلمیں لگتی ھیں مینے اسے گھورا اورپوچھا یہ تم رات کو ٹی وی کیوں دیکھتے ھو۔اس پر وہ جناب ھلکے سے مسکرائے اور بولے بھائی جب سب سوتے ھیں تو میں ٹی وی دیکھتا ہوں آپ بھی ضرور دیکھنا اس پر مینے اس سے کہا کے ٹھیک ھے میں دیکھوں گااسی رات جب میں کمپیوٹر بند کر کے کمرے میں گیا تو اچانک مجھے اپنے کزن کی بات یاد آ گئی مینے ٹی وی آن کیا اور  ایم نیٹ چینل لگایا ابھی تھوڑی ھی دیر گزری تھی کی ٹی وی پر لکھا ھوا آیا پیرینٹل گائڈنیس اڈوائسڈ فور ینگر پیپلز میری آنکھیں کھل گئی وہاں ایک نہائیت ھی واھیات فلم شروع ہو گئی پہلے تو مجھے بہت ھنسی آئی مگر بعد میں میں اٹھا اور جا کر اپنے چچا کو جگایا اور انہیں بلا کر بتایا کے آپ کے صاحبزادے آپ کے سونے کے بعد کیا کیا شغل فرماتے ھیںانہیں اتنا بتانے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا صبح مجھے کسی دھماکے کی امید تھی مگر صرف ڈانٹ کھا کر ھی بچت ھو گئی اس پر کزن صاحب مجھ سے ناراض ھو گئے اور آدھا گھنٹہ بعد ایک چاکلیٹ کے عوض ھماری دوستی پھر سے بحال ھو گئی اس واقعے کے ٹھیک دوسری رات میں واش روم جانے کے لئے اٹھا تو سامنے والے کمرے میں لائٹ جلتی نظر آئی میں سمجھ گیا کے کزن صاحب پھر سے انجوائے کر رھے ھیں میں نے سوچا آج رنگے ھاتھوں پکڑتے ھیں یہ سوچ کر مابدولت کمرے میں تشریف لے گئے اور نہائیت شرمندگی کے باعث فورا“ واپس لوٹ آئے کیوں کے اس بار کزن صاحب نہیں بلکے انکے والد صاحب شغل فرما رھے تھے اس پر میری منہ سے ایک ھی بات نکلی کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115245896969604990?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115245896969604990/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115245896969604990' title='11 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115245896969604990'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115245896969604990'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/07/parental-guidness-is-advised-for_09.html' title='Parental Guidness is advised for the younger Bloggers'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>11</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-115211398453985291</id><published>2006-07-05T20:34:00.000+05:00</published><updated>2006-07-05T20:39:44.556+05:00</updated><title type='text'>بے بس اور مظلوم</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اسلام علیکم                 چند دن پہلے اپنے ایک دوست کے گھر جانا ہوا اس دوست کے ساتھ ھمارے خاندانی تعلقات ھیں اس لئے کافی آنا جانا رہتا ھے ان سب لوگوں سے ھی کافی اچھے تعلقات ھیں۔اب گیا تو کافی گپ شپ رھی باتوں ھی باتوں میرے دوست کے بھائی نے ایک پریشان کر دینے والی بات بتائی۔دوست کا بھائی ایک پرائیویٹ سکول کا ٹیچر ھے اور اس نے ایم اے انگلش کیا ہوا ھے کافی لائق آدمی ھے۔اس کے مطابق اسی سکول میں ایک عیسائی لڑکی بھی پڑھاتی ھے۔اس لڑکی کے مطلق دوست کے بھائی کا کہنا ھے کے وہ بچوں کو بائبل پڑھانے کی کوشیش کرتی رھتی ھے سکول میں وہ بائبل ساتھ لے کر آتی ھے۔گزشتہ رمضان المبارک میں وھی عیسائی لڑکی سکول میں ٹیپ ریکورڈر لے آئی اور اس پر ریسیس میں اونچی آواز میں گانے لگا دئے اس پر بچوں نے اس سے کہا کے ھمارے روزے خراب ھو رھے ھیں پلیز اسے بند کر دیں تو آگے سے اس نے بچوں سے غصے میں کہا میں لعنت بھیجتی ھوں تمھارے روزوں پر(نعوذباللہ)اس پر بچوں نے پرنسپل کو شکائیت لگا دی۔پرنسپل صاحب نے اسے بلا کر اس بارے میں پوچھا تو آگے سے بگڑ گئی کہنے لگی میں تو ایسا کہوں گی ہمت ھے تو مجھے سکول سے نکال کر دیکھا دو اس پر پرنسپل صاحب نے مصحلتا“ اسے سکول سے نہیں نکالا کیوں کہ وہ نہیں چاھتے تھے کے کسی وجہ سے اقلیئت کے ساتھ کوئی زیادتی  ہو اسی وجہ سے وہ اتنی بڑی بات برداشت کر گئے۔اس پر وہ اور منہ زور ھو گئی اس نے سکول کی دوسری ٹیچر جو کے مسلمان ھے اور اس نے ایم اے اسلامیات کیا ھوا ھے کو اپنے ساتھ ملا لیا ھے وہ مسلم لڑکی ھو کے بھی بائبل کی باتیں کرنے لگی ھے ھر وقت وہ دونوں ساتھ میں رھتی ھیں ساتھ میں بچوں کو بھی بائبل پڑھانے کی کوشیش کرتی ہیں۔ایک بچے کو بائبل نا پڑنے پر اس عیسائی لڑکی نے بچے کو بری طرح مارا اس بچے کو دل کا مسئلا تھا اس کی وجہ سے بچے کو اسپتال لے کے جانا پڑا۔وہ لڑکی بچوں کو ھم جنس پرستی اور اس طرح کی کئی اور غلط باتیں سکھاتی ھے کئی ماں باپ نے اپنے بچے اٹھوا لئے ھیں ایک دن پرنسپل صاحب کا میٹر گھوم گیا انہوں نے اسے آفس میں بلا کر خوب ڈانٹا اور اسے سکول سے نکال دینے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔اس وقت وہ چپ چاپ سکول سے چلی گئی مگر دو تین گھنٹے بعد وہی لڑکی یونیسیف والوں کو ساتھ لے کر آ گئی انہوں نے آتے ھی پرنسپل صاحب کو بہت بے عزت کیا انہوں نے دھمکی دی کے اگر اسے نوکری سے نکالا گیا تو آپ کا لائسینس کینسل کروا دیں گے انہوں نے دھمکی کے ذریعے اس لڑکی کی تنحواہ بھی بڑھوادی اب وہ بی اے ہونے کے باواجود دوسرےایم اے پاس ٹیچرز سے زیادہ تنحواہ لیتی ھے اور پہلے جیسی تبلیغ جاری رکھی ھوئی ھے اکثر دوسری ٹیچرز کے ساتھ جھگڑا کرتی ھے اور کہتی ھے میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ اکثر اخبارات میں اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان کالم لکھتی رھتی ھے اکثر قائداعظم کو بھی گالیاں دیتی ھے وہ جان بوجھ کر ایسے کام کرتی ھے تا کہ کوئی اسے غصے میں کچھ کہ دے تو وہ اسے ایشو بنا لے۔کہتی ھے دنیا میں سب سے زیادہ اقلیئت کے ساتھ پاکستان میں زیادتی ھوتی ھے۔اتنا سب کچھ سن نے کے بعد بھی مسلمان ہوتے ھوئے بھی اسے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیوں کیا اس کا کوئی جواب دے سکتا ھے۔یہ تحریر میں نے کسی اقلیئت کو نشانہ بنانے کے لئے یا پھر دکھ پہنچانے کے لئے نہیں لکھی ھے میرا مقصد ایک بے بس اور مظلوم قوم کی ایک حقیقت کو سامنے لانا ھے کے کیسے ھم لوگ خود کو آزاد کہلاتے ھیں کیوں ھم پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ھیں آخر پاکستان میں حکومت کس کی ھے اور کیا ھم واقعئی مسلمان ھیں۔یا پھر یہاں بس اسلام کا نام ھی رہ گیا ھےکافی عرصہ غائب رھنے پر معزرت حواہ ہوں۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-115211398453985291?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/115211398453985291/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=115211398453985291' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115211398453985291'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/115211398453985291'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/07/blog-post.html' title='بے بس اور مظلوم'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114983563704234100</id><published>2006-06-09T11:38:00.000+05:00</published><updated>2006-06-09T11:47:17.056+05:00</updated><title type='text'>اے خدا</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;اے خدا(احمد فراز)۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اسکی آنکھوں کو میرے زخم کی گہرئی دے&lt;br /&gt;تیرے لوگوں سے گلہ ھے میرے آئینوں کو&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ان کو پتھر نہیں دیتا ھے تو بینائی دے&lt;br /&gt;جس کے ایما پہ کیا ترک تعلق سب سے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اب وہی شخص مجھے طعنہ تنہائی دے&lt;br /&gt;یہ دہن زخم کی صورت ھے میرے چہرے پر&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;یا میرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے&lt;br /&gt;اتنا بے صرفہ نا جائے میرے گھر کا جلنا&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;چشم گریاں نہ سہی چشم تماشائی دے&lt;br /&gt;جنکو پیراہن توقیر و شرف بخشا ھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;وہ برہنہ ھیں انہیں خلعت رسوائی دے&lt;br /&gt;کیا خبر تجھ کو کس وضع کا بسمل ھے فراز&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;وہ تو قاتل کو بھی الزام مسیحائی دے&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114983563704234100?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114983563704234100/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114983563704234100' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114983563704234100'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114983563704234100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/06/blog-post_09.html' title='اے خدا'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114934925020605429</id><published>2006-06-03T20:34:00.000+05:00</published><updated>2006-06-03T20:40:50.210+05:00</updated><title type='text'>ہم ایک ہیں</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اپنا ڈیرا میں ایک بلوچی بھائی کی پوسٹ پڑھ کر مجھے بہت دکھ  ھوا ھمارے اپنے لوگ ھی ھمارے دشمن ھوتے جا رھے ھیں ایسا کیوں ھے میں ایک پنجابی ھوں مگر اللہ جل شانہ کی قسم میں نے کبھی کسی بلوچی سندھی یا کسی سرحدی کے بارے میں  کبھی غلط نھیں سوچا کیوں کے  میں یا ھم پنجابی آسمان سے اترے ھوئے نھیں ھیں ھم بھی ایسے ھی انسان ھیں جیسے کے بلوچی یا پھر دوسرے صوبوں کے لوگ ھیں۔میں نے اپنے ارد گرد ایسا ایک بھی شخص نھیں دیکھا جس نے کبھی کسی بلوچی کے خلاف بات کی ہو۔اور اگر کوئی ایسی بات کرتا ھے تو میں اس کی شدید مذمت کرتا ھوں اور یہ کہنا چاھوں گا کے کوئی صوبہ کسی دوسرے صوبے سے بڑھ کر نھیں ھے ھم سب برابر ھیں ھمیں جب قدرت نے ایک جیسا بنایا ھے تو ھم کون ھوتے ھیں کسی کو کمتر کھنے والے۔اب آتے ھیں اپنے اس بلوچی بھائی کی پوسٹ  کی طرف میر آزاد خان بلوچ صاحب آپ فرماتے ھیں کے پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کر رکھا ھے یہ بات انسٹھ سال بعد یاد آئی ھے پہلے کبھی ایسا سننے میں نھیں آیا تھا میں مانتا ھوں کے ھماری حکومت کا رویہ کچھ سرداروں کے ساتھ سحت ھے اور ان سے غلطیاں بھی ھوئی ھیں مگر آپ ھم عام لوگوں سے ناراض کیوں ھیں ھم تو آپ کے اپنے ھیں چند مٹھی بھرغلط لوگوں کی وجہ سے آپ وطن عزیز کے ٹکڑے کر دینا چاھتے ھیں۔آپ کی ایک بات سے مئجھے ذاتی طور پر افسردہ کر گئی کے آپ انڈیا اور اسرائیل کی مدد چاھتے ھیں بلوچستان کو توڑنے کے لیئے کیا آپ ان شہید بلوچیوں کو بھول گئے جنہوں نے پاکستان کے لئے اپنی جان تک قربان کر دی؟اس وطن کو توڑیں گے جو اللہ اور اسکے رسول(صلعم)کے نام پر بنا تھا۔اور اس کام میں ان لوگوں کی مدد لیں گے جو کے ھم سب کے جو کہ تمام مسلمانوں کے دشمن ھیں ارے وہ آپ کے سگے کیوں ھونے لگے جو بھی ھے آخر آپ لوگ مسلمان تو ھو آپ کیا سمجھتے ھو بلوچستان کو خدانحواستہ الگ کرنے کے بعد آپ لوگوں کو انڈیا اور اسرائیل آپکی حکومت بنانے دیں گے؟کبھی نھیں۔آپ نے مشرف کی بات کی تو آپ کو یہ اچھی طرح جان لینا چاھیے کے اسکو پورے پاکستان میں شاید ھی کوئی شخص پسند کرتا ھو وہ تو آیا ھی انھی کاموں کے لئے ھے کہ پاکستان کے تکڑے کر سکے میں ذاتی طور پر اس سے نفرت کرتا ھوں۔اس کے لیئے سب برابر ھیں کیا بلوچی کیا سندھی کیا سرحدی اور کیا پنجابی۔سب کو اس نے کچل کر رکھ دیا ھے کبھی فوج کے ذریعے تو کبھی مہنگائی کے ذریعے سب چکی میں پس رھے ھیں کیابلوچی سندھی کیا سرحدی کیا پنجابی۔باقی کسر آپ کے بلوچی سرداروں نے پوری کر دی ھے۔خود انکے اپنے بچے بیرون ملک یونیورسٹیوں میں پڑھتے ھیں مگر عام لوگوں کو غلام بنا کر رکھا ھے۔خود ائر کنڈیشنڈ کمروں میں سوتے ھیں مگر عام لوگوں کو دن بھر شدید گرمی میں کام کرنے کے لئے جھونک دیا جاتا ھے۔خود مرغن  غزائیں کھاتے ھیں پر عام لوگوں کے پاس ایک وقت کا کھانا نہیں چاھے ان سرداروں کے کتوں کو بھنا ھوا گوشت کھلایا جاتا ھےِ۔خود  تھری پیس سوٹ پھنیں گے چاھے عام لوگوں کے پاس تن ڈھکنے کے لئے کپڑا تک نا ہو۔آپ لوگوں سے ذیادتیاں ھوئی ھیں میں مانتا ھوں مگر آپ لوگوں کی پریشانیوں کے اصل ذمہ دار آپ کے سردار ھیں ۔خود آپ لوگوں کے سردار صرف بیان بازی کرتے ھیں ھر جھگڑے میں پیچھے بیٹھ کر حکم دیتے ھیں اور جھگڑوں میں مرتے بیچارے عام آدمی ھیں اگر آپ کے سردار آپ کے اتنے ھی سگے ھیں تو ان سے کھیں کے آپ کی بھتری کے لئے خکومت سے جائز طریقے سے مطالبہ کریں نا بلوچستان کو الگ کرنے کے لئے۔ھم سب آپ لوگوں کے ساتھ ھیں آپ لوگ شاید یہ بھول گئے یاآپ کو بھولنے پر مجبور کر دیا کہ جب ایک پاکستانی کو چوٹ پہنچتی ھے تو پورا پاکستان کراہ اٹھتا ھے چاھے وہ بلوچی ھو سندھی ھو سرحدی ھو یا پھر پنجابی ہو۔الحمدللہ بلوچستان کے ٧٥سردار پاکستان کے حامی ھیں جو کے اس کے ساتھ رھنا چاھتے ھیں صرف ٣سرداروں نے کچھ لوگوں کو بہکا رکھا لیکن مجھے اللہ جل شانہ کے ھان پوری امید اور یقیں کے یہ لوگ بھی حقیقت کو پہنچانیں گے اور ایک دن ضرور وہ اپنے وطن کو چاھنے لگیں گے انشاللہ۔باقی یہ صوبہ سسٹم میرے خیال میں ختم کر دینا چاھئے تاکہ کوئی جھگڑا ھی نا رھے۔ویسے میری تو ایک ھی سوچ ھے پاکستان ایک چھوٹا سا گھر ھے جس کے چار بڑے کمرے ھیں جس مرضی کمرے میں رھیں گھر تو آخر اپنا ھے بس گھر میں رھنے والوں کے درمیان پیار محبت اور اتفاق ھونا چاھیے۔اگر گھر کے ھی کچھ لوگ دشمنوں سے مل جائیں گے تو اس گھر کا کیا ھوگا سب جانتے ھیں۔لیکن جو بھی ھو اس کے باوجود مجھے اللہ جل شانہ اور اپنے بلوچی بھائیوں پر پورا اعتماد ھے۔کچھ لوگوں کی مذموم سازشوں کا  بلوچ قوم اور سندھ سرحد اور پنجاب مل کر ھی خاتمہ کریں گے انشاللہ۔ھمیں چاھئے کے تمام سندھی سرخدی اور پنجابی سب ایک جان ایک دم ھو کر بلوچ قوم کا ساتھ دیں انہیں ان کا حق دلانے میں کیوں کے صرف بلوچستان نہیں بلکے بلوچ ھمارا حصہ ھیں انھیں ھم سے کوئی جدا نہیں کر سکتا نا انڈیا اسرائیل اور نا چند بکے ھوئے سردار اور نا ھی ھماری تلوے چاٹنے والی حکومت۔ھم سب کو چاھئے کے مل کر ساری دنیا کو بتا دیں کے ھم ایک ھیں۔ اور بلوچیوں کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ بلوچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے کہیں زیادہ پاکی منڈے ہیں۔ &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114934925020605429?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114934925020605429/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114934925020605429' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114934925020605429'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114934925020605429'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/06/blog-post_03.html' title='ہم ایک ہیں'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114914136941101109</id><published>2006-06-01T10:51:00.000+05:00</published><updated>2006-06-01T10:56:09.423+05:00</updated><title type='text'>افسوس</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;&lt;br /&gt;اسلام علیکم&lt;br /&gt;زکریا صاحب میں آپ سے پھلے بھی کہ چکا ھوں کے آپ کھل کر لکھا کریں۔آپ اچھی طرح جانتے ھیں کے ھم لوگ یہودیوں کے خلاف کیوں ھیں۔کیا افغانستان عراق میں کتنے معصوم لوگ مر رھے ھیں آپ نھیں جانتے کیا آپ کو فلسطین دکھائی نھیں دیتا آج خبریں نھیں دیکھی دو معصوم بچوں سمیت نو افراد جن میں تین عورتیں بھی تھیں ان کہ میزائیل فائیر کر کے شھید کر دیا گیا کیا آپ ھم سے امید رکھیں گے کہ ھم یہودیوں سے دوستی کر لیں جو ھمارے بیگناہ لوگوں کو مار رھے ھیں جبکہ انکا کوئی قصور بھی نھیں۔روزانہ ٹی وی پر ایسی کئی خبریں دیکھنے کو ملتی ھیں ایسی چیزیں دیکھ کر مسلمانوں میں بغض ھی سرائیت کرے گا نا کہ محبت۔کیا دو سال کے مردہ مسلمان بچے کو دیکھ کر آپ کو افسوس نھیں ھوتا۔1998کو اسرائیل کا طیارہ پاکستان کا ایٹمی پلانٹ تباہ کرنے کے لئے انڈیا پھنچ گیا تھا اس طیارے کو بھیجنے والے یہ وھی یہودی ھیں جن کے لئے آپ کے دل میں بہت افسوس جاگتا ھے۔یہودی آج کل انڈیا سے مل کر بلوچستان کو الگ کرنے کے چکر میں ھیں۔اے آر وائی ون ورلڈ پر پروفیسر شاھد معسود کے پروگرام ویوز ان نیوز میں یہ بات اور بحث کتنے دنوں تک چھڑی رھی پاکستان کی حکومت کے پاس اس کے با قاعدہ ثبوت بھی ھیں۔اب آپ بتائیں ھمارا بغض خوامخواہ کا ھے اور ھمارے چینل جھوٹ کھتے ھیں یا پھر آپ کا یہودیوں کے لئے افسوس غلط ھے۔میرے خیال میں آپ اپنی افسوس کا رخ بدلیں اور ان بیگناہ لوگوں کے لئے افسوس کرٰیں جو بغیر کسی گناہ کے ان یہودیوں کے میزائیلز اور گولوں کا نشانہ بنتے ھیں۔اب آپ لوگ کھیں گے شاید میرا کسی مذھبی جماعت سے تعلق ھے مگر ایسا نھیں ھے مٰیں ایسا نھیں چاھتا کے تہذیبیں آپس میں لڑیں مگر خون خرابہ شروع کرنے والے بھی یھی یہودی ھی ھیں سو ان کو چاھئے کے اسے بند بھی وھی کرں۔ورنہ دنبدن یہ بغض لوگوں میں بڑتا ھی چلا جائے گا۔اس دن سے ھم سب کو بچنا چاھئے کے جس دن یہ بغض نفرت میں بدل جائے گا تو پھر اسے روکنا نا ان کے بس میں رھے گا نا ھمارے۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114914136941101109?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114914136941101109/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114914136941101109' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114914136941101109'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114914136941101109'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/06/blog-post.html' title='افسوس'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114874607271437104</id><published>2006-05-27T21:01:00.000+05:00</published><updated>2006-05-27T21:10:26.106+05:00</updated><title type='text'>خود فریبی</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;&lt;br /&gt;اسلام علیکم&lt;br /&gt;&lt;a href="http://simunaqv.blogspot.com/2006/05/blog-post_27.html"&gt;&lt;strong&gt;نبیل صاحب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے واقعی بالکل ٹھیک کہا ھے ھم سب واقعی خود فریبی میں مبتلا ھیں۔ھمارے جیسے لوگ کبھی حقیقت کو جاننے کی کوشیش نھیں کرتے ھم تو ایک مظلوم قوم ھیں جو ایک آمر کی قید میں ھیں۔ھمیں ھر وقت کسی ھیرو کی ضرورت رھتی ھے جو کہ ھماری عظمت کا بول بالا کر سکے لیکن ھمارے اندر تو کسی عظمت کا نام و نشان تک نہیں ھے یا پھر رھنے نھیں دیا گیا ھے تو پھر اس کا کیا بول بالا ھو گا۔ھم تو گرے ھوئے لوگ ھیں انسانیئت سے کردار سے اخلاق سے اور شاید ضمیر سے بھی ھم ھیں ھی کیا ھمارا مسلمان ھونا ایک اللہ جل شانہ اور اس کے رسول (صلعم) پر یقین رکھنا اللہ اور اس کے رسول(صلعم)کے لیئے اپنی جان تک دے دینا کیا ھےسوائے خود فریبی کے متحدہ مجلس عمل کا یہ مطالبہ غلط ھے کہ جرمنی سے سفارتی تعلقات حتم کیئے جائیں یہ احمق اور بیوقوف لوگ ھیں جب رسول کریم(صلعم)کی شان میں گستاخی کرنے پر ان سے تعلقات حتم نہیں کیئے گئے تھے تو ایک پاگل آدمی جسکا کہ ذہنی توازن درست نہیں تھا اسکی موت پر ان سے تعلقات کیوںحتم کیئے جائیں۔نشان حیدر عامر چیمہ کو کیوں دیا جائے۔یہ نشان حیدر تو ہماری روشن خیال اور اعتدال پسند حکومت خاص طور پر پرویز مشرف صاحب کو دیا جانا چاہیے، جنہوں نے اتنی بہادری اور جرات سے کئی دلیرانہ اقدامات کیے کئی تنظیمییں نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی تنطیموں بھی صرف اس لیے کے وہ مذہبی ہیں کو کالعدم قرار دیا۔ کئی مدرسے جن میں سے اکثریت صحیح تھی کو سیل کیا۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں فوجی کارروایاں کافی دلیرانہ اقدامات ہیں۔ اوپر سے وطن عزیز میں سے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی حد تک کی گئی کوششیں کچھ روشن خیال اور اعتدال پسند زہنوں کی پیدائیش کافی بہادرانہ اور ستائیش کے قابل ہیں۔ شائد ایسا کرنے سے مرحوم عامر چیمہ کے درجات بلند نہ ہوں مگر پاکستان عالمی دنیا میں ایک بہترین سیکولر ریاست ضرور مشہور ہو جائے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسری جانب کچھ موقعہ شناس (میرے جیسے لوگ) موقع کو بھانپتے ہوئے آنسو بھرے کالم لکھتے ہیں اپنے کالموں کی شہرت کے لیے ۔ اس چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ کچھ روشن خیال اعتدال پسند لوگوں کے دل ہماری خود فریبی کی باتوں سے دکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے میں دل کی گہرائیوں سے معافی چاہتا ہوں مگر ایک بات میں ان لوگوں سے ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہر کالم نویس بقول ہمارے دوست نبیل صاحب کے کالم کو بیچنے کے لیے لکھنے والا نہیں ہوتا۔ ویسے کالم بیچنا ضمیر بیچنے سے سو فیصد بہتر ہے۔ ہم لوگ حقائق کو مسخ کرتےہیں اور وہ بھی ڈھٹائی سے یہ کافی غلط بات ہے۔ ہمیں ہر کام اعتدال پسندی سے کرنا چاہیے اور لوگوں تک حقیقت پہنچنے دینی چاہیے جیسے کے لوگ ہم پر بیٹھے ہیں اور خود اندھے ہیں کمال ہے بھئی۔ اسی اعتدال پسند حکومت کے بے انتہا اعتدال پسند ٹی وی جیو نیوز اور اے آر وائے اور جنگ اخبار پر یہ خبر دیکھی گئی ہے کہ ایف آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک پاگل جس کا زہنی توازن درست نہیں تھا خود اس نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے جان سے مار دیا گیا مطلب "شہید" کر دیا گیا۔ اب پتہ نہیں یہ غلط خبر کیوں شائع کی گئی پتہ نہیں پاکستانی پتھالوجسٹ ٹھیک کہتے ہیں یا پھر ایف آئی اے والوں کو غلطی لگی ہو گی۔ سوچنے کی بات ہے، اگر عامر چیمہ کا زہنی توازن درست نہیں تھا تو وہ جیل میں کیوں تھا؟ اسے کسی پاگل خانے میں علاج کی لیے بھیج دیا جانا چاہیے تھا۔ صرف مزاحمت کے لیے اسے اتنا عرصہ جیل میں کیوں رکھا گیا جبکہ دوران پوچھ گچھ پولیس کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ وہ زہنی مریض ہے۔ ہماری عوام اندھی اور بیوقوف نہیں جو بغیر ثبوت کے ہر بات پر یقین کر لے۔ مذہبی جماعتیں ضروری نہیں ہر کام جھوٹ اور انتہا پسندی سے کریں کچھ حقیقت بھی تو ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتیں جان بوجھ کر کیوں نفرت پھیلاتی ہیں اس کی وضاحت کریں۔ مغرب زدہ ان کو قرار دیا جاتا ہے جن کی سوچ مغربی ہوتی ہے۔ جو شخص مذہب سے اختلافات پیدا کرتا ہے لوگ اسے کافر اور مغرب زدہ ہی کہتے ہیں، یہ میری زاتی رائے نہیں ہے۔&lt;br /&gt;ہالینڈ کے فلم ساز کا قتل بہت افسوسناک ہے۔ یہ انتہا پسندی ہے۔ اس فلم ساز کو کہنا چاہیے تھا کے سر ایسا کریں دو تین سین اور شامل کر لیں زلیل کریں مسلمانوں کو جتنا دل چاہے۔ ہمارے عام لوگوں کے گھروں میں عورتوں سے کیا کیا بدسلوکی ہوتی ہے اس پر کچھ وضاحت کریں۔ فلم ساز کو مارنا غلط تھا میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس میں اسلام کو کیوں لایا جا رہا ہے۔ اسلام کو کسی بول بالے کی ضرورت نہیں مسلمانوں پر پہلے سے کیا کم عرصہ حیات تنگ کیا گیا تھا۔ مساجد کو کیا پہلے نہیں جلایا جاتا تھا۔ یہاں مجھے نبیل صاحب کے جملے پر اعتراض ہے وہ یہ کے آپ نے مساجد کو شہید کیوں نہیں لکھا؟ کیا یہ بات متحدہ مجلس عمل نے تو نہیں کہی تھی یا پھر کسی دوسری مذہبی جماعت نے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کے مساجد بھی شہید ہوتی ہیں یا اس بار مساجد کا بھی زہنی توازن درست نہیں تھا جو اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکیں؟۔&lt;br /&gt;اصل لڑائی شروع کرنے والے واقعی یہودی ہی ہیں اس میں شک والی بات نہیں۔ اب تک کتنے مظلوم مسلمان مارے گئے ہیں اور کون انہیں مار رہا ہے۔ مگر ہمیں اعتدال پسند رہنا ہے سب کچھ بھول جانا ہے لیکن مغرب کو ہر ہر حال میں اعتدال دکھانا ہے کیوں کے یہ ایک "ضمنی" سی بات ہے، ہے نا؟ &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114874607271437104?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114874607271437104/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114874607271437104' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114874607271437104'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114874607271437104'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_27.html' title='خود فریبی'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114865861023111370</id><published>2006-05-26T20:47:00.000+05:00</published><updated>2006-05-26T20:50:10.243+05:00</updated><title type='text'>اعتراض</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;اسلام علیکم زکریا صاحب آپ اپنا تبصرہ کریں تاکہ پتا چل سکے کےآپ کیا چاھتے&lt;br /&gt;ھیں۔اصل میں میری بات کو غلط لیا گیا ھے میری پوسٹ غور سے پڑھیں میں نے&lt;br /&gt;یورپ میں رھنے والے سبھی لوگوں کے بارے میں ایسا نھیں کہا تھا میرے وہ الفاظ&lt;br /&gt;کچھ لوگوں کے لئے تھے۔میں نے بات پر غور کر کے ھی جواب دیا تھا۔دیکھیں عامر&lt;br /&gt;چیمہ ایک شھید ھے اگر کوئی ایسا نھیں مانتا تو پھر بھی وہ وفات پا چکا ھے اور&lt;br /&gt;مرحوم لوگوں کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاھئے تھے۔ویسے یہ میری&lt;br /&gt;ذاتی تنقید نھیں تھی میرا اشارہ ایک حاص طبقے کی طرف تھا جو آج کل روشن&lt;br /&gt;خیالی کو فروغ دینے کی کوشیش کر رہا ھے۔اپنے مذھب کے خلاف کچھ بھی ھو&lt;br /&gt;رسول پاک (صلعم) کی شان میں گستاخی ھو تو چپ رھیں کیوں کہ ہمیں مغرب&lt;br /&gt;کو  اعتدال پسندی دیکھانی ھے۔اپنی عورتوں کی کپڑے اتروا کر اپنی روشن خیالی&lt;br /&gt;منوانی ھے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ھے کے گزشتہ پانچ سال سے ھماری حکومت&lt;br /&gt;امریکہ اور یورپ کو ھر ممکن روشن خیالی اور اعتدال پسندی دکھا چکی ھے مگر&lt;br /&gt;کیا فائدہ ھوا۔ھمارے لیئے ھمیشہ ان کا ایک ھی نظریہ رھے گا ایک دھشت گرد&lt;br /&gt;قوم کبھی ھمیں انڈیا کے ذریعے دھمکیاں اور الزامات ملتے ھیں کبھی افغانستان&lt;br /&gt;کے ذریعے۔ابھی تک ھمیں کیا ملا سوائے ذلت اور رسوائی  کے۔جب دل چاھتا ھے&lt;br /&gt;کسی بھی پاکستانی پر القائدہ ڈال دی جاتی ھے جب چاھتے ھیں کسی بھی پاکستانی&lt;br /&gt;کو مار ڈالتے ھیں بعد میں کھتے ھیں پاکستانی دھشت گرد تھا القائدہ سے تعلق تھا&lt;br /&gt;بعد میں اسکا تعلق ھماری اعتدال پسند حکومت کسی بھی مذھبی جماعت پر&lt;br /&gt;ڈال دیتی ھے اور اسے کالعدم قرار دے دیا جاتا ھے۔بدلے میں پاکستان کو انعام&lt;br /&gt;کے طور پر یہ کیھ کر خوش کر دیا جاتا ھے کہ دھشت گردی کے خلاف لڑائی&lt;br /&gt;میں پاکستان ھمارا ساتھی ھے۔ھے۔میری مغرب سے کوئی ذاتی دشمنی نھیں مگر&lt;br /&gt; مجھے اس کے دوغلے پن سے نفرت ھے۔میں مغرب میں کام کرنے اور رھنے کو&lt;br /&gt;برا نھیں کھتا ھم لوگوں کی کچھ مجبوریاں ھوتی ھیں تبھی پردیس جا کر کام&lt;br /&gt;کرتے یا پڑھتے ھیں ورنہ پردیس جانے کو کس کا دل کرتا ھے مگر مغرب کی سوچ&lt;br /&gt;اپنانے پر مجھے اعتراض ھے۔۔۔۔۔اعتراض&lt;br /&gt;میں ھرگز کسی کی توہین نھیں کرنا نھیں چاھتا تھا میں نے بس ایک حقیقت بیان کی تھی اگر کسی کو برا لگا&lt;br /&gt;تو میں معافی چاھتا ھوں&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114865861023111370?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114865861023111370/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114865861023111370' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114865861023111370'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114865861023111370'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_26.html' title='اعتراض'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114828212030502108</id><published>2006-05-22T12:00:00.000+05:00</published><updated>2006-05-22T12:15:20.320+05:00</updated><title type='text'>جاناں جاناں</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;احمد فراز کا شمار پاکستان کے بہترین شعرا میں ہوتا ھے مجھے انکی شاعری بہت پسند ھے اس لئے سب سے شئیر کرنا چاھتا ھوں۔امید ھے آپ کو بھی پسند آئیں گے۔&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اب کہ تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;کیایاد دلائیں تجھ کو تیرا پیماں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;یوں ھی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;کس قدر بدل جاتے ھیں انسان جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;دل یہ کہتا ھے شاید ھو فرسودہ تو بھی&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;دل کی کیا بات کریں دل تو نادان ھے جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;بے پائے بھی تیرا چہرہ تھا گلستان جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;آخر آخر تو یہ عالم ھے کے اب ہوش نھیں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جان جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;مدتوں سے یہی عالم نا توقع نا امید&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;دل پکارے ھی چلا جاتا ھے جاناں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھم بھی کیا سادہ تھےھمنے بھی سمجھ رکھا تھا&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;غمِ دوراں ھے غمِ جاناں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اب کے کچھ ایسی سجی محفلِ یاراں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;سر با زانوں ھے کوئی سر با غریباں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھر کوئی اپنی ھی آواز سے کانپ اٹھتا ھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھر کوئی اپنے ھی سائے سے ھراساں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;جس کو دیکھو وھی زنجیرِ بپاں لگتا ھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;شھر کا شھر ھوا داخلِ زنداں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اب تیرا زکر بھی شاید ھی غزل میں آئے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;اور سے اور ھوئے درد کے عنواں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھم کے روٹھی ھوئی رت کو بھی منا لیتے تھے&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھم نے دیکھا ھی نھیں تھا موسمِ ھجراں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;ھوش آیا تہ سبھی خواب تھے ریزاں ریزاں&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt; &lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;جیسے اڑتے ھوئے اوراقِ پریشاں جاناں&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114828212030502108?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114828212030502108/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114828212030502108' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114828212030502108'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114828212030502108'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_22.html' title='جاناں جاناں'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114814110180020410</id><published>2006-05-20T20:58:00.000+05:00</published><updated>2006-05-20T21:49:36.816+05:00</updated><title type='text'>شہید عامر چیمہ کو خراج تحسین۔</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اسلام علیکم پچھلے دنوں جرمنی میں ھمارے ایک پاکستانی بھائی کوجیل میں تشدد کا نشانہ بنا کا شھید کر دیا گیا ھمارے اس بھائی کا نام عامر چیمہ ھے میں ھے اس لئے لکھ رھا ھوں کیوں کہ شھید کبھی مرتے نھیں۔پاکستان کا یہ سیدھا سا لڑکا جرمنی میں پی ایچ ڈی۔ کی تعلیم حاصل کر رھا تھا۔یورپ میں جب نبی کریم (صلعم) کی شان پاک میں گستاخی کی گئی تب مسلمانوں نے شدید غم و غصہ کا اظھار کیا۔انھی دین پرست لوگوں میں سے ایک عامر چیمہ تھے جنھوں نےنبی کریم (صلعم)کی خاطر جرمنی کی اخبار کے اڈیٹر کو دھمکی دے ڈالی۔صرف دھمکی دینے کے الزام میں انھیں گرفتار کر لیا گیا پھر انھیں تشدد کر کے شھید کر دیا گیا۔جس سے پوری پاکستانی قوم نے شدید رنج اور غصے کا اظھار کیا مگر ھماری حکومت کے کان پر جوں تک نھیںرینگی۔ابھی تک صرف تفتیش ھی کی جا رھی ھے۔ھوگا کیا یہ ھم سب جانتے ھیں۔لیکن ایک بات لازمی یاد رکھنے کی ھے کے شھید کا خون کبھی رائگاں نھیں جاتا عامر چیمہ کا خون بھی رنگ لائے گا (انشااللہ)ھماری حکومت یقیناً یھی کھے گی کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ھے بھلا ایک اعلیٰ درجے کے پڑھے لکھے نو جوان کو خود کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔مگر بات تو سمجھنے کی ھے۔شاید اسکا تعلق القائدہ سے جوڑ دیا جائگا۔یورپ اور امریکا میں ایک مکھی مچھر بھی مر جائے تو اسے بھی القائدہ پر ڈال دیا جاتا ھے سمجھ میں نھیں آتا جب امریکا میں قطرینہ طوفان آیا تو اسکی ذمہ داری القائدہ نے کیوں قبول نھیں کی اس میں بھی کسی پاکستانی کا ھاتھ کیوں شامل نھیں ھوا۔اور مزے کی بات تو یہ ھے کہ ھر دھشت گردی میں کوئی نا کوئی پاکستانی ضرور شامل ھوتا ھے۔ایسا کیوں ھوتا ھے ھم سب اچھی طرح جانتے ھیں۔امریکہ اور یورپ تو پورے پاکستانی پندرہ کروڑ لوگوںکو دھشت گرد قوم مانتے ھیں۔مگر ھماری حکومت انکی دوست ھے اکیلے مشرف صاحب ھی ان دھشت گردوں کو قابو کیئے ھوئے ھیں۔ابھی جرمنی اور پاکستان کے درمیان تجارت اور دفاع کا معاھدہ ھو رھا تھا یہ بیچ میں عامر چیمہ کیوں آ گیا یہ اسلام کیوں بار بار پاکستان کی ترقی کےدرمیان آ جاتا ھے۔کتنی کوشش کی ھماری حکومت نے اسلام کو ختم کرنے کی مگر ناجانے کیوں کامیاب نھیں ھو سکی۔جب جب اسلام کو دبایا جاتا ھے یہ اور زیادہ بڑھتا ھی جاتا ھے۔ھے نا مزے کی بات۔&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114814110180020410?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114814110180020410/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114814110180020410' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114814110180020410'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114814110180020410'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_20.html' title='شہید عامر چیمہ کو خراج تحسین۔'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114797030566235940</id><published>2006-05-18T21:07:00.000+05:00</published><updated>2006-05-18T21:56:07.913+05:00</updated><title type='text'>شکریہ</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;اسلام علیکم&lt;br /&gt;سب سے پھلے میں انکل اجمل کا شکریہ ادا کرنا چاھوں گا جنھوں نے اپنے قیمتی وقت سے میرے لیئے وقت نکالا۔میں نے ابھی شروعات کی ھے میں اس کام میں بالکل نیا ھوں مجھے سب دوستوں کی حاص طور پر انکل اجمل کی حوصلہ افزائی&lt;br /&gt;چاھئیے۔انکل آُُپ کو ھم سب سیالکوٹیوں کی جانب سے خوش آمدید کھتے ھیں۔میری دوکان محلہ میانا پورا گرین وڈ سٹریٹ میں ھے یھاں کمپیوٹر کی ایک ھی دوکان ھےآپ جب چاھیں تشریف لائیں۔&lt;br /&gt;اب آتے ھیں اپنی ای میل کی جانب انکل اجمل یہ میل&lt;br /&gt;میں نے جیو کو محتلف ای میل ایڈریس سے ارسال کی ھے اس لیئے میں سب دوستوںسے شئیر کرنا چاھتا تھا کیون کہ میں جاننا چاھتا تھا کے دوسرے دوست اس بارے میںکیا کھتے ھیں۔آپ نے بالکل سچ کھا ھے ک عامر لیاقت واقعئی نا تو ڈاکٹر ھے نا ھی&lt;br /&gt;عالم ھے۔ایسے لوگوں کا کوئی اایمان نھیں ھوتا۔مجھے ایسے لوگوں سے نفرت ھے۔مینے عالم والی بات طنزاً لکھی تھی۔امید ھے آپ میری بات کا مطلب سمجھ گئے ھوں گے۔&lt;br /&gt;پاکی منڈا&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114797030566235940?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114797030566235940/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114797030566235940' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114797030566235940'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114797030566235940'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_18.html' title='شکریہ'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114788502385096934</id><published>2006-05-17T21:51:00.000+05:00</published><updated>2006-05-17T21:57:03.863+05:00</updated><title type='text'>جیو سے ایک سوال</title><content type='html'>سب سے پہلے میں جیو کو ان کی کامیابی پر مبارک بیش کرتا ہوں کے جیو نے ماشاءاللہ کتنی محنت اور کوشش سے چینل بنایا ہے۔ اس کے ساتھ میں جیو کے انڈین فائنانسرز کو بھی مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے جیو کو اس مقام پر پہنچایا ہے، میں جیو انڈیا کا بہت بڑا مداح ہوں مگر مجھے جیو سے ایک شکائت بھی ہے کے جیو ہمارے دشمن پاکستانیوں کے جو دو یا چار پروگرام پیش کرتا ہے وہ کیوں کرتا ہے، جیو کو چاہیے کے ان گھٹیا پاکسانیوں کے پروگرام بند کرے پاکستان کا گھٹیا کلچر ہے اس میں ہے ہی کیا یہ تو جیو نے آ کر بتایا ہے کہ اصل کلچر کیا ہوتا ہے، کہ برقعہ پہننا، پردہ کرنا لڑکوں سے دور رہ کر بات کرنا، گلے لگنا منہ چومنا ٹی وی پر دیکھنے کا اصل مزہ تو اب آیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستانی تو ہمیشہ پردے کی حیا شرم کی بات کرتے رہیں گے بیچارے ان کو کیا پتہ غیرت کیا چیز ہوتی ہے، جیو نے پاکستان کو بتایا کہ اصل کلچر کیا ہے، جیو اپنے چینل پر انڈین کلچر کو تقویت دے کر پاکستان کو بدل کر رکھ دے گا۔ پاکستان کے جو شوز ہوتے ہیں ان میں پاکستانی فنکاروں کو کیوں بلایا جاتا ہے؟ انڈین فنکاروں کو بلایا جائے تاکہ  پتہ چل سکے کہ اصل فنکار تو انڈین ہیں۔ پاکستان بیچارے کے پاس تو کچھ بھی نہیں، نہ فنکار نہ موسیقار، نہ گلوکار، نہ اداکار بیچاروں کے پاس تو کوئی اپنا ٹی وی چینل تک نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ قائد اعظم کون ہیں؟ ہمیں گاندھی کے بارے بتایے۔ قائد نے پاکستان کے لیے کیا کیا ہے؟ ہمیں سلطان محمود غزنوی کے بارے نہیں  بلکہ منگل پانڈے کے بارے میں بتایا جائے، میجر عزیز بھٹی کے بجائے کسی "شہید" انڈین جنرل کے بارے میں بتایا جائے، نشان حیدر کو چھوڑیں ہمیں پرم ویر چکر کے بارے میں بتائیں  ریما کو چھوڑیں ایشوریہ رائے کو دکھائیں، عالم آنلائن کو بدل کر پنڈت آنلائن بنائیں اور اس میں اسلام کی بجائے ہندو مذہب کے بارے میں بتائیں، اپنے نیوز کاسٹر سے کھیے کے اسلام علیکم کی بجائے نمستے کہیں۔ اردو کی بجائے ہندی "جبان" (جو کے اب شروع ہو چکی ہے) استعمال کریں، احمد جہانزیب کو چھوڑیں سونو نگم دکھائیں، ایک دن جیو کے ساتھ میں مہدی حسن کو دیکھا تھا، ان کو چھوڑیں لتا کے ساتھ دن بتائیں ختم کریں پاکستان کے وجود کو ہی، دنیا میں اس کی کوئی ضرورت نہیں، سرحد کھولیں پاکستان کو انڈیا میں ضم کر کے سارا قصہ ہی ختم کر دیتے ہیں میرے خیال میں  جیو کو یہ بھی دکھانا چاہیے کے کشمیر میں انڈین فوج نہیں پاکستانی فوج کشمیریوں کو مار رہی ہے، کشمیری شہید نہیں بلکہ ہلاک ہوتے ہیں۔ پاکستانی تو دہشت گرد ہیں ان کو جیو اور جینے دو کی زبان سمجھ نہیں آئے گی ان کو مارنا ہی بہتر ہے، چاہے کلچر کی موت مارو یا پھر سیدھے جان سے ہی مار دو کیوںکہ بیوقوف خدا کے لیے لڑتے ہیں انہیں سمجھائیے کے اصل طاقت تو بھگوان(نعوزباللہ) کی ہے۔ پاکستانیوں کو بتائیں کے ان کے اصل دوست تو انڈین ہی ہیں جنہوں نے کشمیر اور گجرات کے لاکھوں مسلمانوں کو مارا ہے انہی دوستوں پر اعتبار کیا جاسکتا ہے جو اب بلوچستان کو الگ کرنے کے در پر ہیں۔ ہمیں سعودیہ، چین، ایران کو بھولنا ہے اور امریکہ اور انڈیا سے دوستی کرنی ہے کیوں کے یہ "وائس آف امریکہ" ہے اسلام کو بیچنا ہے، وطن کو بیچنا ہے غیرت کو بیچنا ہے اور بے غیرتی کے عالم میں ہر پل جینا ہے، اگر کوئی اسلام کی بات کرے تو اسے انتہا پسند کہنا ہے، مولویوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنا ہے، کیوں کہ اسلام تو ہمیں پیچھے لے کر جا رہا ہے، ہمیں روشن خیالی اور معتدل بننا ہے۔ شراب عام کرنی ہے، کوٹھے دکھانے ہیں، آخرت تو صرف ایک فرسودہ خیال ہے، زندگی کو پوجنا ہے، انڈیا اور امریکہ کے تلوے چاٹنا ہیں کیونکہ یہ جیو اور جینے دو کی "پکار" ہے جسے ہر گھر تک پہنچانا ہے، منموہن ہوں یا بش،اہم ترین شخصیات ہیں۔ ضیاء اور بھٹو تو انتہا پسند تھے، نواز شریف ایک غدار ہے، دہشت گرد ہے جس نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا اور پاکستان کو دھمکیوں سے بچایا بش تو (نعوز باللہ) خدا ہے، بش اور منموہن کی مہربانی ہے کے پاکستان اس وقت سانس لے رہا ہے، لیکن ایسی سانسوں سے بہتر ہے کے پاکستانیوں کو مر جانا چاہیے۔ کتابوں میں اسلام کو چھوڑ کے ہندوازم اور عیسائیت پڑہائی جانی چاہیے جو کہ اب شروع ہو چکی ہے۔ پر ہمیں کیا ہے ہمیں تو جینا اور جینے دینا ہے یہ ای میل پڑہ کر سوچ رہے ہونگے کہ کسی مولوی نے لکھی ہے، خدا کی قسم میں مولوی نہیں، کاش میں ہوتا۔ میں ایک ماڈرن اور پڑہا لکھا آدمی ہوں۔ نہ تو میں بنیاد پسند ہوں نہ ہی روشن خیال ہوں نہ میں نئے اسلام کو مانتا ہوں نہ پرانے کو، اسلام صرف اسلام ہے نہ نیا نہ پرانا۔ جو کچھ نبی کریم صلعم نے فرمایا خدا کی قسم اس میں ایک تنکے سا بھی جھوٹ شامل نہیں، جو انہوں (صلعم) نے فرمایا وہی اسلام کی ابتدا ہے اور وہی انتہا، میرا انباتوں پر پورا ایمان ہے، میں صرف مسلمان ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اور میرے اردگرد کے لوگ انڈیا امریکہ اور جیو پر لاکھوں لعنت بھیجتے ہیں، ہماری کمیونٹی جیو کا بائیکاٹ کرتی ہے، ہمارے محلہ میں جیو صرف کیبل پر آتا ہے، گھر پر لوگوں نے جیو کو اڑا دیا ہے۔ ہمارے خیال میں جیو کو اس کی انتھک محنت کا اس سے بہتر صلہ نہیں مل سکتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکی منڈا&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114788502385096934?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114788502385096934/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114788502385096934' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114788502385096934'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114788502385096934'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post_17.html' title='جیو سے ایک سوال'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114788270593827650</id><published>2006-05-17T20:57:00.000+05:00</published><updated>2006-05-17T21:45:08.743+05:00</updated><title type='text'>تعارف</title><content type='html'>&lt;span style="font-size:130%;color:#999900;"&gt;&lt;strong&gt;اسلام علیکم                  میرا نام خاور جاوید ھے۔میرا تعلق سیالکوٹ سے ھے۔میری کمپیوٹر کی دوکان ھے۔مجھے سیاحت موسیقی  فلم مارشل آرٹس بوڈی بلڈنگ کا شوق ھے۔مجھے محبت ھے اپنے پاک وطن سے۔یہ ھی میرا سب کچھ ھے۔میں اس سے&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;color:#999900;"&gt;&lt;strong&gt;بہت پیارکرتا ھوں۔               &lt;/strong&gt;&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114788270593827650?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114788270593827650/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114788270593827650' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114788270593827650'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114788270593827650'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/05/blog-post.html' title='تعارف'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-26950851.post-114598259387920232</id><published>2006-04-25T21:15:00.000+05:00</published><updated>2006-05-17T21:36:25.633+05:00</updated><title type='text'>پاکی منڈا</title><content type='html'>خوش آمدید پاکی منڈے کے بلاگ پر&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/26950851-114598259387920232?l=pakimunda.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://pakimunda.blogspot.com/feeds/114598259387920232/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=26950851&amp;postID=114598259387920232' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114598259387920232'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/26950851/posts/default/114598259387920232'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://pakimunda.blogspot.com/2006/04/blog-post.html' title='پاکی منڈا'/><author><name>پاکی منڈا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07309201302384099015</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry></feed>
